خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 358 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 358

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 358 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء معلوم ہوتا ہے کہ کفار کا حملہ ہی اتنا شدید اور اچانک تھا کہ اس نے انہیں سراسیمہ اور حواس باختہ کر کے رکھ دیا اور اس ریلے کے آگے وہ اس طرح بے بس و بے اختیار ہو گئے جیسے سیلاب میں تنکے بہہ جاتے ہیں۔اس بات کا سب سے بڑا ثبوت کہ وہ عمد أ قصور وار نہ تھے بلکہ محض لغزش کے مرتکب تھے یہ ہے کہ بعد ازاں آنحضور نے ان میں سے کسی کو سر زنش نہ فرمائی نہ ہی کسی قسم کی ناراضگی کا اظہار کیا۔حالات ہی اچانک کچھ ایسے پیدا ہو گئے تھے کہ جن میں بڑے بڑے سور ماؤں کے قدم اکھڑ جاتے ہیں۔اپنی جگہ پر یہ سب درست ہے لیکن یہ سوال پھر بھی وہیں رہتا ہے اور ذہن کو ماؤف کئے دیتا ہے کہ آخر ان کے لئے یہ کیسے ممکن ہو گیا کہ آنحضور کے بلانے کے باوجود دوڑے ہی چلے جائیں اور مڑ کر بھی نہ دیکھیں۔بہت غور کے بعد میں اس قطعی نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ دراصل انہیں اس بات کا علم ہی نہ ہوسکا کہ انہیں کون بلا رہا ہے؟ آنحضور زرہ پوش تھے اور آنکھوں کے سوا چہرہ مبارک نظر نہ آتا تھا۔اسی طرح آپ کی آواز بھی زرہ کا پردہ حائل ہونے کے باعث پہچانی نہیں جارہی تھی چنانچہ جیسا کہ حضرت کعب بن مالک کی روایت گزر چکی ہے انہوں نے بھی جب ڈھونڈتے ڈھونڈ تے آخر آپ کو پالیا تو صرف آپ کی آنکھوں کی حسین چمک کی بدولت آپ کو پہچان سکے ورنہ اور کوئی ذریعہ آپ کو پہچانے کا نہ تھا۔معلوم ہوتا ہے کہ آنحضور خود بھی اس راز کو پاگئے چنانچہ مسلمانوں پر قطعی طور پر یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ کون انہیں اپنی طرف بلا رہا ہے آپ نے ایک ایسا اعلان فرمایا جس کے بعد کسی غلط فہمی کا سوال باقی نہ رہتا تھا کیونکہ یہ ایک اعلان تھا جو ہمارے محبوب آقا آنحضور کے سوا کسی اور زبان پر زیب نہ دیتا تھا اور سننے والے عشاق کے لئے کسی شک کی گنجائش نہ چھوڑتا تھا کہ یہ خاص انداز محبوبی میں بلانے والا کون ہے۔حضرت یعقوب بن عمر بن قتادہ بیان کرتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لڑائی کا بہت زور پڑ گیا اور سارے مشرک ایک دم آپ ہی پر ٹوٹ پڑے اور حضرت مصعب بن عمیر اور حضرت ابو دجانہ جان پر کھیل کر حضور کی امداد کو حاضر ہوئے اور دشمنوں کو آپ کے پاس سے دم کے دم میں رفع دفع کر دیا اور خود زخموں سے چور چور ہو گئے تو حضور نے مسلمانوں کو آواز دے کر یہ فرمایا کہ اس وقت کون ہے جو مجھ پر اپنی جان نچھاور کرے؟ یہ آواز کیا تھی ایک صور پھونکا جارہا تھا۔جس