خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 357 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 357

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 357 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء دیا۔پھر حضرت خارجہ سے کہنے لگے کہ اگر آپ کو میری زرہ اور میرے خود کی ضرورت ہو تو لے لیجئے۔حضرت خارجہ نے فرمایا کہ مجھے تو کچھ ضرورت نہیں اور جو کچھ آپ کی نیت ہے وہی میری بھی نیت ہے غرض یہ سب کے سب اپنی اپنی زرہ وغیرہ سب چیزیں اتار کر اور سر بکف ہو کر مشرکوں کے ٹڈی دل میں گھس گئے اور حضرت عباس بن عبادہ یہ بھی فرماتے جاتے تھے کہ اگر خدانخواستہ ہماری آنکھوں کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے تو ہم خدا کو کیا منہ دکھا ئیں گے اور اس کے سامنے کیا کہیں گے؟ اور حضرت خارجہ ان کی تائید کرتے جاتے تھے۔( شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه : ۳۴۴) پس ان دونوں کی دلی آرزو اللہ تعالیٰ نے پوری کر دی اور وہیں لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔سیرت ابن ہشام میں شہداء کی جو فہرست دی گئی ہے اس میں حضرت خارجہ کا ۴۱ واں نام ہے اور حضرت عباس بن عبادہ کا ۵۲ واں نام درج ہے۔اللہ تعالیٰ ان عظیم شہداء کے انگ انگ پر بے شمار حمتیں اور برکتیں نازل فرمائے اور تا ابد ہمارے محبوب آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ان کو جگہ دے کیونکہ دراصل یہ چاروں شہداء یعنی حضرت ثابت بن دحداحہ اور حضرت انس بن نفر اور حضرت عباس بن عبادہ اور حضرت خارجہ بن زید اس لائق ہیں کہ حضرت محمد مصطفی کے فراق کا شہید کہا جائے۔آنحضور کی شہادت کی خبر نے دنیا ان پر اندھیر کر دی تھی اور ہجر کی بے قراری انہیں مزید اب یہاں ٹھہر نے نہ دیتی تھی۔پس اس سے زیادہ خوش نصیبی اور کیا تھی کہ شہادت کا باب ابھی کھلا تھا اور یکے بعد دیگرے یہ کہتے ہوئے اس میں داخل ہوئے۔آنحضور کا ایک انقلاب آفرین اعلان قرآن کریم کے اس ارشاد سے کون مسلمان واقف نہیں کہ ایک ایسا کڑا وقت بھی جنگ احد میں آیا تھا کہ آنحضور دوڑتے ہوؤں کو پیچھے سے آوازیں دے کر بلا رہے تھے مگر کوئی مڑکر بھی نہ دیکھتا تھا۔اس واقعہ نے ہمیشہ سیرت نگاروں کو سخت تعجب میں مبتلا کئے رکھا ہے کیونکہ بظاہر یہ بات اسوہ صحابہ کے منافی نظر آتی ہے اور اگر قرآن کریم نے اس واقعہ کی تصدیق نہ کی ہوتی تو کسی مسلمان کا دل اس کو قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوتا۔یہاں یہ امر یا درکھنے کے قابل ہے کہ احد کے میدان سے جن بھاگنے والوں کا ذکر ملتا ہے وہ کوئی منافق نہ تھے بلکہ ان میں بعض اعلیٰ پائے کے صحابہ بھی شامل تھے۔