خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 33
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 33 ارتقائے انسانیت اور ہستی باری تعالٰی ۲۶۹۱ نظریہ سائنسدانوں کے درمیان اختلاف کا موجب بنا رہا۔اس نظریہ کے قائل تو یہ کہتے تھے کہ زندگی کے جراثیم ٹوٹنے والے ستاروں یعنی شہب ثاقب پر سوار ہو کر ہماری دنیا میں داخل ہوئے۔مگر اس کے مخالفین کے پاس اس کے خلاف یہ نا قابل تردید دلیل تھی کہ جب بھی کوئی ٹوٹا ہوا ستارہ زمین کے دائرہ میں داخل ہوتا ہے ، ہوا کے ساتھ اس کی رگڑ کی وجہ سے اتنی گرمی پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ ایک شہاب مبین یعنی آگ کا بھڑکتا ہوا شعلہ بن جاتا ہے۔سائنسدانوں کا یہ نظریہ کہ یہ زندگی بیرونی دنیا سے آئی ہے یہ بھی غلط ثابت ہو گیا کیونکہ شہب ثاقب زمین میں داخل ہوتے ہی جل جاتے ہیں۔اس کے بعد بعض سائنسدانوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ باہر سے شہب ثاقب پر سوار ہو کر زندگی نہیں آئی بلکہ شعاعوں کے اوپر سوار ہو کر آئی ہے لیکن جب نئی تحقیق نے یہ ثابت کر دیا کہ جن شعاعوں کے اوپر وہ ان کو سوار کراتے ہیں وہی زندگی کی قاتل ہیں تو یہ نظریہ بھی خود بخود دھڑام سے زمین پر آ رہا۔خصوصاً اس نظریہ کے تابوت پر حال ہی میں روسی تحقیقات نے آخری کیل ٹھونک دی ہے اور یہ اب ہمیشہ کے لیے مر چکا ہے کیونکہ روس نے جو فضا میں راکٹ پھینک کر اس بارہ میں معلومات حاصل کی ہیں ان سے تو یقینی طور پر یہ امر ثابت ہو گیا ہے کہ باہر سے زندگی کے اس زمین میں داخل ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ زندگی ہمیشہ سے موجود نہیں بلکہ زمین کے ٹھنڈا ہونے کے بعد اس دنیا میں بنی یہ عجیب تصرف ہے کہ انیسویں صدی کے آخر پر ایک طرف تو عقلی دلائل کے ذریعے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس نظریہ کے خلاف آریوں سے برسر پر کار تھے کہ زندگی قدیم سے ہے اور دوسری طرف یورپ کے بہت سے سائنسدان تجربات سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ زندگی کا قدیم سے ہونا ناممکن ہے۔چنانچہ دونوں میدانوں میں اس نظریہ کے قائلین کو بری طرح شکست اٹھانی پڑی اور آج سے ستر اسی برس پہلے جو بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عقلی دلائل کے ذریعہ ثابت فرمائی تھی آج دہر یہ روس کے سائنسدان سائنس کی رو سے انہیں کے حق میں نا قابل تردید ثبوت پیش کر رہے ہیں اور اس آر یہ نظریہ کو قطعی طور پر جھٹلا رہے ہیں کہ زندگی ہمیشہ سے موجود چلی آتی ہے۔آج روس اپنے سائنسی انکشافات کا عصا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ میں دے رہا ہے اور میرا یہ یقین ہے اور میرا یہ ایمان ہے کہ وہ دن اب بہت دور نہیں رہے کہ جب