خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 356 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 356

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 356 غزوات النبی میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء اللہ! اللہ ! تلاش حبیب میں دیوانوں کا یہ کیسا عجیب سفر تھا۔واقدی کا بیان ہے کہ احد کے روز جس وقت مسلمانوں کی حالت خراب ہو گئی اور سب کے سب گھبرا کر بے اوسانی کی حالت میں تتر بتر ہو گئے تو اس وقت حضرت ثابت بن دحداحہ آگے بڑھے اور زور زور سے کہنے لگے۔اے انصار کی جماعت ! تم کدھر بھاگے جاتے ہو۔دیکھو میری طرف دیکھو، میں ثابت بن دحداحہ ہوں اور میرے پاس آجاؤ۔اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے تو کیا ہوا خدا تو زندہ ہے اور وہ ہمیشہ ہمیش قائم رہنے والا ہے جس کے لئے تم پڑنے کو آئے ہو۔سو تم اپنے دین کی حمایت میں جانبازی کرو خدا ضرور تمہاری مدد کرے گا اور دشمنوں پر تمہیں فتح دے گا۔چنانچہ چند آدمی انصار میں سے ان کی آواز سن کر ان کے پاس آگئے اور انہیں چند آدمیوں کو لے کر مشرکوں پر حملہ کرنے کو تیار ہو گئے اور مشرکوں کی طرف سے بھی ان کے مقابلہ کے واسطے ایک ہتھیار بند فرقہ آڈٹا جس میں ان کے بڑے بڑے سردار شامل تھے۔حضرت دحدانہ اور جو جو فدائین ان کے ساتھ تھے وہ سب کے سب وہاں شہید ہو گئے کہا جاتا ہے کہ یہ جنگ احد کے آخری شہداء تھے۔شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه ۳۷۳، ۳۷۴) حضرت انس بن نضر جو انس بن مالک کے چچا تھے۔ان کی کیفیت راوی اس طرح بیان کرتا ہے کہ احد کے روز جب مسلمان شکست کھا کر بھاگنے لگے تو ہم چند مسلمان اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے۔اسی عرصہ میں اتفاق سے انس بن نضر بن ضمضم بھی گزرے اور ہمیں بیٹھے ہوئے دیکھ کر فرمانے لگے کہ تم جنگ سے کیوں بیٹھ رہے ؟ لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو شہید ہو گئے ہیں۔اب ہم بھی لڑ کر کیا کریں۔یہ سن کر حضرت انس بن نضر فرمانے لگے کہ حضور کے بعد تم زندہ ہی رہ کر کیا کرو گے۔پس اٹھ کھڑے ہو اور جس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مر مٹے ہیں تم بھی لڑ کر اسی بات پر مرمٹو اور اپنی جان کھو دو۔یہ فرما کر انہوں نے جلدی سے اپنی تلوار اٹھالی اور مشرکوں پر بجانی شروع کر دی یہاں تک کہ آخر کار خود بھی شہید ہو گئے ایسے حال میں کہ ان کے چہرے پر ستر زخم آئے جس سے وہ پہچانے بھی نہ جاتے تھے۔( شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه ۳۷۲، ۳۷۳) حضرت عباس بن عبادہ نے جوش میں آکر اپنے سر سے خود کوا تار دیا اور اپنی زرہ کو بھی نکال