خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 336
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 336 غزوات النبی میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء خوف و ہراس کا سایہ بھی آپ کے پاس سے نہ گزرتا تھا۔کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ احد کے روز جب مسلمان آنحضور کی جدائی کی بے چینی میں مبتلا ہو گئے تو سب سے پہلے میں نے ہی آنحضور کو تلاش کیا آپ کا سر اور چہرہ چونکہ خود اور زرہ سے ڈھکا ہوا تھا اس لئے میں نے آپ کو آپ کی آنکھوں کی چمک سے پہچانا۔معلوم ہوتا ہے آنحضور کی تلاش میں اس وقت متعدد صحابہ ادھر ادھر سرگرداں پھر رہے تھے چنانچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے متعلق بھی روایت ہے کہ جب آنحضور دشمن کی اچانک یلغار کی بناء پر اکثر صحابہ کی نظر سے اوجھل ہو گئے اور یہ مشہور ہو گیا کہ آپ شہید ہو چکے ہیں تو اس خبر سے حضرت علیؓ کے دل کی جو حالت ہوئی وہ نا قابل بیان ہے۔آنحضور کی تلاش میں اس طرح ہر طرف بے محابا دوڑے کہ تن بدن کا ہوش نہ رہا۔کبھی شہداء کی لاشوں میں جگہ بہ جگہ حضور کا چہرہ ڈھونڈتے پھرتے۔کبھی حملہ آور جتھوں کی صفیں چیرتے ہوئے آر پار گزر جاتے کہ شاید اس طرف کہیں آنحضور پر نظر پڑ جائے۔بالآخر انہوں نے آنحضور کو وہاں پایا جہاں جنگ سب سے زیادہ شدت کے ساتھ لڑی جارہی تھی۔آپ زرہ پوش تھے ،سر پر جو دتھا، ہاتھ میں کمان تھی کبھی تو حملہ آوروں پر تیر برساتے کبھی پتھراؤ کرنے لگتے۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی جب نگاہ پڑی تو اس وقت حضور کنکروں کی ایک مٹھی بھر کر کفار کی ایک حملہ آور پارٹی کی طرف پھینک رہے تھے۔حضرت علیؓ نے یہ حیرت انگیز ماجرا دیکھا کہ وہ حملہ آور کنکروں کی اس مٹھی سے ہی اس طرح پسپا ہو گئے جیسے ان پر پتھروں کی بارش برسا دی گئی ہو۔اسی طرح یعقوب بن عمر بن قتادہ نے بیان کیا ہے کہ جنگ احد کے روز آنحضور کے حضور تھیں آدمی ثابت قدم رہے تھے اور سب کے سب حضور سے یہی عرض کرتے تھے کہ ہمارا سر آپ کے سر پر فدا ہو اور ہماری جان آپ کی جان پر قربان ہے اور آپ پر ہمارا سلام ہے مگر یہ سلام کچھ رخصت کے لئے نہیں بلکہ محض برکت کے لئے ہے۔( شروح الحرب ترجمہ فتوح العرب صفحہ: ۳۲۳) " آنحضور کے ثبات قدم کا ذکر کرتے ہوئے ایک اور راوی بیان کرتا ہے کہ صفیں بالکل ٹوٹ پھوٹ گئیں اور مشرکوں نے اپنے عسکری نشان عزای بت کی دہائی ہے“ کے نعرے مارنے شروع کر دئیے اور اپنے آدمیوں کو آواز دی کہ اے ھبل بت کی اولاد! دوڑو کہ خدا کی قسم بڑے گھمسان کی لڑائی ہو رہی ہے۔راوی کہتا ہے کہ تمام مشرک اس وقت بہت جان تو ڑ کر لڑے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو