خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 333
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 333 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔چنانچہ تاریخ میں لکھا ہے کہ وہ اس طرح حضور کے لشکر میں پیچھے پیچھے چلے جارہے تھے کہ نسبت زیادہ زخمی بھائی جب اتنا لا چار ہو جاتا کہ ایک قدم اٹھانا بھی دوبھر ہو جاتا تو نسبتا کم زخمی بھائی کچھ دُور اُسے پیٹھ پر لادے ہوئے لے جاتا۔غرضیکہ اسی طرح گرتے پڑتے وہ آنحضور کے پیچھے پیچھے میدان جہاد میں پہنچ گئے۔( شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه: ۴۴۳، ۴۴۴) دنیاوی جنگوں کی تاریخ میں آپ نے کئی ایسے واقعات پڑھے ہوں گے کہ ایک زخمی سپاہی دوسرے زخمی ساتھی کے لئے بڑے ایثار کا نمونہ دکھاتا ہے اور اسے بچانے کے لئے خود اپنی جان جوکھوں میں ڈالتا ہے لیکن کیا کبھی ایسا نظارہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک زخمی بھائی اپنے دوسرے زخمی بھائی کو اس طرح پیٹھ پر لادے ہوئے موت سے دُور نہیں بلکہ موت کے منہ میں لئے جاتا ہو۔محض اس لئے کہ اس کے محبوب سالار جیش کے منہ سے نکلا ہوا حکم لفظاً لفظاً پورا ہو۔پس آنحضور کے غلاموں نے آپ کے اعتماد کو جس طرح اپنے عمل سے سچا کر دکھایا اس سے جہاں ان کی عظمت کردار کا پتہ چلتا ہے وہاں آنحضور کی بے خطا فراست کو بھی ایک عظیم خراج تحسین ملتا ہے۔کبھی کسی آقا نے اپنے غلاموں کی مخفی قلبی کیفیات کو اس صفائی اور وضاحت کے ساتھ نہیں جانچا جیسے آنحضور ﷺ نے اپنے غلاموں کے دلی حالات کو دیکھا اور سمجھا۔محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا اُحد کے دوسرے روز ہی دشمن کے تعاقب کا فیصلہ اپنے ساتھیوں پر ایک ایسا عظیم احسان ہے کہ کبھی کسی سالار نے اپنی فوج پر نہیں کیا کہ ان کے زخمی کردار کو آن کی آن میں ایسی کامل شفا بخش دی ہو۔اللهم صلّ على محمد و علی ال محمد و بارک وسلم انک حمید مجید ۵۔بعد کے واقعات سے ثابت ہے کہ آنحضور کا یہ اقدام محض نفسیاتی اور اخلاقی فوائد کا حامل ہی نہیں بلکہ فوجی نقطہ نگاہ سے بھی انتہائی کارآمد ثابت ہوا اور اس سے دشمن ایک اور شدید تر حملہ سے باز آ گیا بلکہ اس حال میں واپس لوٹا کہ فتح کی ترنگ کی بجائے بُری طرح مرعوب ہو چکا تھا۔پس بغیر مزید نقصان کے آنحضور نے محض اپنی حکمت اور تدبر کے طفیل متعد عظیم الشان فوائد حاصل کئے۔تفصیل اس واقعہ کی یہ ہے کہ جب آنحضور حمراء الاسد میں دشمن کے انتظار میں خیمہ زن تھے تو ادھر ابوسفیان کا لشکر کچھ دور روحاء کے مقام پر از سر نو حملہ کرنے کا عزم کئے ہوئے آخری