خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 304 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 304

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 304 فلسفہ حج ۷۷۹۱ رنگ بھی نظر آجائے گا ، دوڑ کر عبادت کرنے والوں کا رنگ بھی نظر آ جائے گا ، ہاتھ چھوڑ کر عبادت کرنے والوں کا رنگ بھی نظر آجائے گا، ہاتھ باندھ کر عبادت کرنے والوں کا رنگ بھی نظر آجائے گا، رکوع کرنے والوں کا بھی سجدہ کرنے والوں کا بھی ، جنگلوں میں دھونی رما کر بیٹھ جانے والوں کا بھی ، پتھروں کے گرد گھومنے والوں کا بھی، پتھروں کو چومنے والوں کا بھی۔کوئی ایسا رخ کوئی ایسا رنگ دنیا میں عشق اور عبادت کے اظہار کا نہیں ہے جو حج میں نہ پایا جائے۔دیکھیں اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حج کا اصل مقصد بنی نوع انسان کو بالاخر اکٹھا کرنا تھا۔حج وحدت انسانی کا ایک عظیم درس ہے۔حج میں بنی نوع انسان اس طرح ایک ہو جاتے ہیں کہ دنیا کے پردے پر ان کی کوئی مثال کہیں نظر نہیں آتی۔وہاں کالے بھی آتے ہیں اور گورے بھی آتے ہیں۔سیاہ وسفید اور ہر رنگ کے انسان مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب سے اکٹھے ہوتے ہیں۔امیر بھی اور غریب بھی مختلف زبانیں بولنے والے لیکن وہاں ایک زبان عربی چل رہی ہوتی ہے۔ساری دعائیں، سارا اظہار عشق عربی میں ہو رہا ہوتا ہے۔کوئی فرق نہیں رہتا نہ کپڑے کا نہ کسی اور رہن سہن کا۔سارے بنی نوع انسان خدا کے حضور ایک ہو جاتے ہیں۔اس سے بہتر اس سے زیادہ پیارا بنی نوع انسان کے اکٹھے ہونے کا کوئی اور منظر آپ کو دنیا میں کہیں نظر نہیں آئے گا۔اس کے علاوہ لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ میں جن منافع کا ذکر تھا ان کے متعلق حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: حج تو ایک مذہبی عبادت ہے مگر اس میں میں روحانی فوائد کے علاوہ ملی اور سیاسی غرض بھی ہے کہ مسلمانوں کے ذی اثر طبقے میں ایک بڑی جماعت سال میں ایک جگہ جمع ہو کر تمام عالم کے مسلمانوں کی جماعت سے واقف ہوتی رہے۔تمام عالم کے مسلمانوں کے حالات سے واقف ہوتی رہے اور ان میں اخوت اور محبت ترقی کرتی رہے اور انہیں ایک دوسرے کی مشکلات سے آگاہ ہونے اور آپس میں تعاون کرنے اور ایک دوسرے کی خوبیوں کو اخذ کرنے کا موقع ملتار ہے“ پھر فرماتے ہیں: حج سے مسلمانوں کے اندر مرکزیت کی روح بھی پیدا ہوتی ہے اور