خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 303 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 303

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت مصلى الله 303 قَامُوا بِأَقْدَامِ الرَّسُولِ بِغَزْوِهِمْ كَالْعَاشِقِ الْمَشْغُوفِ فِي الْمِيْدَانِ فَدَمُ الرّجال لِصِدْقِهِمْ فِي حُبِّهِمْ تَحتَ السّيُوفِ أُرِيقَ كَالْقُرُبَانِ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه: ۵۹۱) فلسفہ حج ۷۷۹۱ء کہ محمد مصطفی کے صحابہ نے محمدمصطفی میت کے اقدام کے ساتھ آپ کے پیچھے پیچھے غزوات میں اقدام کیا۔ایک ایسے عاشق کی طرح جو جلوہ عشق سے پاگل ہو چکا ہو۔اس حال میں وہ میدانوں کی طرف نکلے کہ تم دیکھو گے کہ انسانوں کا خون ان کی سچائی کے باعث اس محبت کی سچائی کے ثبوت کے طور پر جو انھیں خدا کے ساتھ تھی تلواروں کے نیچے اس طرح بہایا گیا جس طرح چھریوں کے نیچے قربانیوں کی گردنوں کا خون بہتا ہے۔یہ وہ نقشہ ہے قربانیوں کا جسے اول دور میں واقعات کی دنیا میں پیش کیا جا چکا ہے اور اس دور ثانی میں آپ ہیں جنہوں یہ نمونے پیش کرتے ہیں۔اے مسیح موعود کی جماعت! اے وہ جو حج سے محبت کا دعویٰ رکھتے ہو! اے وہ جو یہ دعوی کرتے ہو کہ عشق و وفا کی کتنی ہی تصاویر ہم ماضی میں دیکھ چکے ہیں انہیں ہم دوبارہ دہرائیں گے اور اپنی زندگیوں میں ان تصاویر کے نمونے بن کر دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔جنہوں نے تجدید عہد کی ہے، یہ ہے روح حج ، یہ ہے فلسفہ حج۔آج جو سینکڑوں ہزاروں واقفین زندگی اور ان کی بیویاں اور ان کے بچے وادی ذی زرع میں رزق کے ظاہری انتظاموں کے بغیر اپنے آپ کو خدا کے حضور پیش کر رہے ہیں اور کرتے چلے جارہے ہیں یہ سارے اسی قربانی کے مناظر ہیں۔یہی ہیں حج کے مقاصد جن کو جماعت احمد یہ اللہ کے فضل سے پورا کر رہی ہے اور انشاء اللہ ہمیشہ پورا کرتی چلی جائے گی۔حج کے اندر ایک عظیم بات یہ ہے کہ چونکہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا نے یہ حکم دیا تھا کہ سب دنیا کو اس طرف بلاؤ اس لئے خدا نے ہر دنیا میں ہر قسم کی قوموں اور عبادت کرنے والوں کے کچھ نہ کچھ نمونے حج میں رکھ دیئے ہیں۔آپ کو سادھوؤں کا رنگ بھی یہاں نظر آجائے گا ، دو کپڑوں میں ملبوس ،سر منڈائے ہوؤں کا رنگ بھی یہاں نظر آ جائے گا، بیٹھ کر عبادت کر نیوالوں کا