خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 302 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 302

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 302 فلسفہ حج ۷۷۹۱ء طرح ابراہیم نے اپنے بچے کی گردن پر چھری پھیری تھی یا پھیر نے کے لئے تیار ہو گئے اور اتنا کامل عزم ا تھاوہ، باپ اور بیٹے دونوں کا کہ خدا تعالیٰ نے گواہی دی کہ تو نے اس خواب کو پورا کر دیا ہے۔ایک شعشہ بھی وہم کا پیدا نہیں ہوسکتا تھا کہ وہ چھری نہ پھیر تی اس کی گردن پر اگر خدا کا یہ حکم نازل نہ ہوتا۔اس میں اشارہ ہے دراصل ان قربانیوں کی طرف جن کا آغاز حضرت محمد مصطفی امی نے کرنا تھا۔ذبح عظیم میں وہ بکر انہیں مراد جو ظاہر ہوا اور اس کی گردن پر چھری پھیری گئی تھی۔بکرے کو تو کوئی نسبت ہی نہیں تھی حضرت اسماعیل سے۔حضرت اسماعیل کے مقابل پر بکرے کو ذبح عظیم کہنا تو بڑی عجیب بات نظر آتی ہے۔حضرت اسماعیل کے مقابل پر جو عظیم ذبیح کہلا سکتا ہے وہ محمد مصطفیٰ کے سوا اور کوئی نہیں۔ساری عمر آپ کی روح خدا کے حضور ذبح ہوتی رہی بنی نوع انسان کی محبت میں بھی اور خدا کی محبت میں بھی۔تمام عمر آپ کے جسم کا خون بھی بہا ان گلیوں میں خدا اور بنی نوع انسان کی محبت میں اور آپ کی روح بھی فدا ہوتی رہی اور اس کے اوپر چھریاں چلتی رہیں صبر و رضا کی۔صرف یہی نہیں بلکہ آپ نے ذبح عظیم کے طور پر وہ صحابہ پیدا کئے جنہوں نے اس قربانی کو آگے چلایا اور محض اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش ہی نہیں کیا عملاً اپنی گردنیں خدا کی رضا کی تلواروں کے سامنے اس طرح رکھیں کہ وہ ذبح کئے گئے میدانوں میں۔تاریخ اسلام سے ثابت ہے کہ جس طرح حضرت اسماعیل اور انکی بیوی اور ان کے بچے سارے اس قربانی میں شریک تھے ایک ابراہیم اور ایک اسماعیل اور ایک ہاجرہ نہ رہی محمد صلی ہوتی ہے نے سینکڑوں ابراہیم اور سینکڑوں ہاجر ائیں اور سینکڑوں اسماعیل پیدا کر دیئے۔ایسی مائیں تھیں جنہوں نے سات سات بچے جنگ میں بھیجے اور دعائیں کرتی رہیں رورو کے خدا کے حضور کہ اے خدا! ایک بھی بیچ کر واپس نہ آئے اور سارے تیرے حضور میں ذبح ہو جائیں۔ایسی بیویاں تھیں جنہوں نے خاوندوں کو ان دعاؤں کے ساتھ اور ان تمناؤں کے ساتھ میدان جنگ میں بھیجا کہ میں دوبارہ اس خاوند کا منہ نہ دیکھوں اور تیری راہ میں یہ کام آئے۔ایسے باپ تھے جنہوں نے بچوں کو یہ دعائیں دیں کہ جاؤ اور خدا کرے اور کاش ایسا ہو کہ تم خدا کی راہ میں شہید ہو جاؤ اور میں تمہارا دوبارہ منہ نہ دیکھوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس ذبح عظیم کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: