خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 301 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 301

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 301 فلسفہ حج ۷۷۹۱ اس کے بعد ایک دوسرا واقعہ قربانی کا واقعہ ہے جس کا بھی تعلق حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے بیٹے اسماعیل سے ہے۔قرآن کریم اس کا ذکر ان الفاظ میں فرماتا ہے: فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعَى قَالَ يُنَيَّ إِنِّى أَرَى فِي الْمَنَامِ انِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَى قَالَ يَابَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصُّبِرِينَ فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ وَنَادَيْنَهُ أَنْ يَابُرُ هِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْبَلُوا الْمُبِينُ وَفَدَيْنَهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمِ (الصافات: ۱۰۳ - ۱۰۸) کہ جب حضرت اسماعیل علیہ السلام اس قابل ہوئے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ دوڑنے پھرنے لگے، یہ اس زمانے کی بات ہے ابھی چھوٹی عمر تھی لیکن ساتھ دوڑ تے پھرتے تھے گیارہ بارہ سال کی عمر میں۔حضرت ابرا ہیم بار بار دیکھنے کے لئے یہاں تشریف لایا کرتے تھے۔آپ نے رویا میں دیکھا قرآن کریم فرماتا ہے کہ اس رؤیا کا ذکر کرتے ہوئے اپنے بیٹے کو مخاطب کرتے ہوئے حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ اے میرے پیارے بیٹے ! میں نے ایک خواب دیکھی ہے اور وہ خواب یہ ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔تو بتا تیرا کیا خیال ہے اس بارے میں؟ معصوم بچے نے کہا اے میرے ابا افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ تو وہی کر جس کا تجھے خدا نے حکم دیا ہے سَتَجِدُنِي اِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصّبِرِینَ تو اللہ کے فضل کے ساتھ اللہ نے چاہا تو مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائے گا۔تب حضرت ابراہیمؑ نے پیشانی کے بل اوندھا کر کے ان کو لٹا دیا اس طرح سے کہ میں اس بچے کی گردن پر اس حال میں چھری پھیروں کہ وہ مجھے نہ دیکھ سکے اور میں اسے نہ دیکھ سکوں۔اس وقت خدا نے فرمایا وَ نَادَيْنَهُ أَنْ يَا بْرُ هِيمُ ہم نے کہا اے ابراہیم قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا تو نے اپنی رویا پوری کر دی ہے كَذلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ اس طرح ہم محسنوں کو جزا دیا کرتے ہیں۔یہ جو قربانی کا واقعہ ہے اسی کی یاد میں وہ قربانیاں کی جاتی ہیں یہ یاد دلانے کے لئے کہ کس