خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 299 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 299

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 299 فلسفہ حج ۷۷۹۱ء اپنے بیوی اور بچے کو بٹھایا۔ایک مشکیزہ پانی کا وہاں رکھا، ایک کھجوروں کا تھیلا چھوڑا اور کچھ دیر کے بعد چل پڑے۔ان کے چلنے کا انداز کچھ ایسا تھا کہ حضرت ہاجرہ پریشان ہوئیں، پیچھے پیچھے دوڑیں اور کہا کہ ہمیں کہاں چھوڑ کر جاتے ہو؟ یہ پانی کا مشکیزہ گے دن چلے گا؟ یہ کھجور میں کب تک کام آئیں گی؟ لیکن حضرت ابراہیم جو بہت ہی نرم دل تھے مڑ کر بھی نہ دیکھ سکے۔زبان سے کچھ کہنے کا تو سوال ہی نہیں تھا۔آپ خاموش چلتے رہے وہ والہا نہ پیچھے دوڑتی رہیں۔کہتیں دیکھو! معصوم بچہ ہے اور میں ہوں ہمیں کیوں چھوڑے جاتے ہو؟ آخر حضرت ہاجرہ کو خیال آیا کہ یہ نرم دل باپ خدا کے حکم کے سوا یہ نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ اتنا تو بتا دو کہ کیا یہ خدا کے حکم کے نتیجے میں ہے؟ اس وقت حضرت ابراہیم نے صرف اتنا کہا ہاں۔حضرت ہاجرہ نے عرض کیا کہ اگر خدا کے حکم کے نتیجہ میں ہے تو ہمیں کبھی ضائع نہیں کرے گا۔حضرت ابراہیم رخصت ہوئے۔حدیث میں آتا ہے کہ آپ ایک ایسی جگہ پہنچ کر ثنیہ کے مقام پر جہاں سے وہ بچہ اور بیوی ان کو دیکھ نہیں سکتے تھے، وہ ان کو نہیں دیکھ سکتے تھے کھڑے ہوئے اور مڑ کر اس مقام کی طرف منہ کیا اور یہ دعا کرنی شروع کی: رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلوةَ فَاجْعَلْ أَفَبِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِى إِلَيْهِمُ وَارْزُقُهُمُ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ (ابراہیم: ۳۸) اے ہمارے رب ! میں نے اپنی اولا د کو اپنی ذریت کو ایک ایسی وادی میں بسا دیا ہے جس میں گھاس کا تنکا تک نہیں اگتا، تیرے مقدس گھر کے قریب۔اس لئے اے میرے آقا ! کہ تیری عبادت کریں۔پس تو ہی لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر دے۔وہ دوڑتے ہوئے ان کی طرف چلے آئیں اور اے میرے آقا ! ان کو پھلوں سے رزق عطا فرما تا کہ وہ تیرے شکر گزار بندے بنیں۔یہاں حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے جو دعا کی اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے جو برکتیں عطا فرمائیں وہ ظاہر ہیں ان کے ذکر کی ضرورت نہیں لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جانے کے بعد جو واقعہ ہوا وہ یہ ہے کہ حضرت ہاجرہ تھوڑی دیر کے بعد پیاس کی شدت کے باعث اس حال کو پہنچ گئیں کہ دودھ پلانے کے لئے بھی بچے کے لئے کچھ نہیں تھا۔جب آپ کا دودھ بھی خشک ہو گیا اور