خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 289
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 289 قیام نماز ۶۷۹۱ء ری کیسی ؟ عرض کیا گیا کہ حضرت زینب کی رسی ہے وہ رات اتنی لمبی عبادت کرتی ہیں مسجد میں آکے کہ وہ تھک کر گرنے والی ہو جاتی ہیں سہارے کے لئے رسی پاس رکھی ہوئی ہے۔تب آنحضرت سے نے فرمایا کہ نہیں یہ مناسب نہیں ایسی تکلیف جو طاقت سے بڑھ کر ہے اس کی خدا اجازت نہیں دیتا اور وہ رسی کھلوا دی۔( صحیح بخاری کتاب الجمعة باب ما يكره من التشديد في العبادة ) تہجد میں آنحضرتﷺ نے نماز شروع کی تو صبح کی نماز کا تو الگ سوال ہے تہجد کے وقت باجماعت نمازیں شروع ہو گئیں۔ترک فرما دیں اس خیال سے کہ امت اس کو فرض نہ سمجھ لے لیکن محبت صحابہ کی مسجد سے یہ تھی۔ایک دفعہ صحابہ حاضر ہوئے بعض اور نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کہ جو اہل ثروت ہیں یہ تو لے گئے بازی ہم پر۔بڑے فکر میں ہیں ہم۔ان کو خدا نے دولتیں دی ہیں ہم کیا کریں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا کیوں کیا ہوا ؟ بتاؤ تو سہی انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! دیکھیں ہم بھی نماز پڑھتے ہیں وہ بھی نماز پڑھتے ہیں اور روزے ہم بھی رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں لیکن زکوۃ وہ دیتے ہیں ہم دے نہیں سکتے غریب آدمی ہیں۔خدا کی راہ میں وہ خرچ کر سکتے ہیں ہم نہیں کر سکتے وہ تو لے گئے بازی ہمارے اوپر۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دیکھو دیکھو میں تمہیں ایک ترکیب بتا تا ہوں اس پر عمل کرو تو جو تم پر بازی لے گئے ہیں ان سے جاملو گے یا اور تمہارے بعد تم سے پھر کوئی نہیں مل سکتا۔آپ نے فرمایا نماز کے فوراً بعد مسجد سے نہ نکلا کرو ۳۳ دفعه سبـحـان الـلـه ۱۳ دفعه الحمد للہ اور ۳۴ دفعہ اللہ اکبر کہا کرو انہوں نے شروع کر دیا۔اب دیکھئے وہاں کی امیر سوسائٹی کا کیا حال تھا؟ میں یہ بتا رہا ہوں نمازیں کوئی غریبوں کی چیز نہیں تھیں بلکہ ایک دوسرے پر ہر طبقہ سبقت لے جاتا تھا۔امیر بھی اور غریب بھی، بچہ بھی اور بوڑھا بھی۔جب امیروں نے یہ سنا تو انہوں نے بھی یہی کام شروع کر دیا پھر وہ شکایت لے کر حاضر ہو گئے یا رسول اللہ ! اب ہم کیا کریں کوئی اور ترکیب بتائیں۔آپ نے کہا اللہ کا فضل ہے کہ میں اس کو روک نہیں سکتا اگر امیروں پر خدا کا یہ فضل ہے کہ دنیا کی دولتیں ہوتے ہوئے بھی روحانی دولتیں ڈھونڈ رہے ہیں میں کیسے ان کو روک دوں۔( صحیح بخاری کتاب الاذان باب اذا کان بین الامام و بین القوم حائط اوسترۃ ) یہ وہ سوسائٹی تھی جو