خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 26 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 26

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 26 26 ارتقائے انسانیت اور ہستی باری تعالی ۲۶۹۱ نہیں کر سکتا۔مگر آہستہ آہستہ وہ بڑا اور طاقتور ہونے لگتا ہے، بولنا سیکھتا ہے، چلنا سیکھتا ہے ،اور اپنی تمام ضروریات خود ہی پوری کرنے لگتا ہے اور ہر قسم کے خطرات سے بچاؤ کے ذریعے اختیار کرتا ہے۔یہ بھی ایک خدا تعالیٰ کی صفت ربوبیت کا ایک اظہار ہے۔دیکھئے ایک معمولی کمزور اور بے حقیقت بچہ جب ترقی کرتا ہے تو کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے۔جسے پہلے چلنا نہیں آتا تھا وہ دوڑ نے بلکہ فضاؤں میں اڑنے لگتا ہے۔اور چاندستاروں کو فتح کرنے کے خواب دیکھنے لگتا ہے جو پہلے کھی کے مقابلے پر بھی کمزور تھا کبھی قیصر بن جاتا ہے اور کبھی کسری کبھی سکندر اعظم اور کبھی بابر اور کبھی اکبر۔وہ جو ایک دمڑی کمانے کی بھی طاقت نہ رکھتا تھا جب مالدار ہوتا ہے تو قارون کے خزانوں کی کنجیاں اس کو دی جاتی ہیں اور ان سب سے کہیں بڑھ کر وہ کمزور اور ناتواں بچہ جو بھی تو تلی زبان میں بھی بات کرنے کا اہل نہیں تھا ترقی کرتے کرتے خود رب العالمین سے ہمکلام ہو جاتا ہے۔یہ سب خدا تعالیٰ کی صفت ربوبیت کے مظاہر ہیں۔مگر سائنس کی اصطلاح میں ان کو ارتقاء نہیں کہا جاتا بلکہ صرف ترقی کہتے ہیں۔اگر چہ ارتقاء بھی ایک قسم کی ترقی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی صفت ربوبیت ہی کا ایک پرتو ہے مگر ہر ترقی ارتقاء نہیں کہلا سکتی۔ارتقاء صرف ایسی ترقی کو کہتے ہیں جس کے دوران میں کسی جاندار کی جنس اور نوعیت ہی تبدیل ہو جائے۔اب میں مثال دے کر یہ واضح کرتا ہوں کہ ارتقاء اور عام ترقی میں کیا فرق ہے؟ ترقی کی بعض مثالیں میں ابھی بیان کر چکا ہوں۔ان مثالوں سے واضح ہے کہ خواہ ترقی کتنی ہی حیرت انگیز کیوں نہ ہو ترقی کرنے والے کی جنس پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔مثلاً ایک انسانی بچہ خواہ ترقی کرتے کرتے قیصر بن جائے یا کسری مگر رہتا بہر حال انسان ہی ہے۔ایک چوہے کا بچہ خواہ ترقی کرتے کرتے موٹا ہوتے ہوتے ہاتھی کے برابر بھی ہو جائے مگر پھر بھی چوہے کا چوہا ہی رہے گا اور بلکہ شاید اس وقت بھی بلی سے ڈرتا رہے۔مگر فرض کریں کہ یہ چو ہاہاتھی جتنا موٹا تو نہ ہومگر اس کے جسم میں پر نکل آئیں اور وہ بلوں میں گھسنے والا جانور اپنے جسمانی پروں کے ساتھ ہوا میں اڑنے لگے اور درختوں پر بسیرا کرلے تو ایسی ترقی کو سائنس کی اصطلاح میں ارتقاء کہا جائے گا۔کیونکہ پر نکلنے کی وجہ سے اس چوہے کی جنس ہی تبدیل ہو جاتی ہے۔پس ہر وہ ترقی جو جنسی تبدیلی کا موجب بن جائے اسے ہم ارتقاء کہ سکتے ہیں مگر اس شرط کے ساتھ کہ وہ تبدیلی کم از کم پہلے جیسی یا پہلے سے بہتر ہو پہلے سے