خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 286 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 286

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 286 قیام نماز ۶۷۹۱ء اِنَّ فِى خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَايَتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِيْنَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ( آل عمران : ۱۹۱ ۱۹۲) کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے میں عقل مندوں کے لئے یقیناً کئی نشان موجود ہیں۔جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوؤں پر اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے بارے میں غور و فکر سے کام لیتے ہیں اور کہتے ہیں اے ہمارے رب ! تو نے اس عالم کو بے فائدہ پیدا نہیں کیا۔پس تو ہمیں آگ کے عذاب سے بچا اور ہماری زندگی کو بے مقصد بننے سے بچالے۔آنحضرتﷺ کے متعلق روایت آتی ہے حضرت عبدالرحمن بن عوف کی روایت ہے کہ ایک صحابی نے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھا۔رات نماز کے بعد کچھ دیر آرام فرمایا پھر اٹھے اور باہر نکل کر اُفق کو دیکھا اور اس آیت کی تلاوت فرمائی اور خدا کو یاد کرنے لگے کہ زمین و آسمان میں نشانات ہیں اللہ کے اور پھر نماز شروع کر دی۔پھر کچھ دیر آرام فرمایا، پھر آنکھ کھلی اور پھر اسی طرح باہر نکل گئے اور افق کو دیکھ کر اس آیت کی تلاوت فرمانے لگے اور پھر نماز شروع کر دی پھر کچھ دیر آرام فرمایا پھر باہر نکل آئے اور آسمان کو دیکھ کر اپنے رب کے نشانات کو یاد کرنے لگے پھر نماز پڑھی اور پھر کچھ دیر آرام فرمایا۔تین مرتبہ ایک رات میں اس طرح ہوا۔( صحیح مسلم کتاب صلوٰۃ المسافر وقصرها باب الدعا فی الصلوة الليل وقيامه ) پھر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِايْتِنَا الَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِهَا خَرُّوا سُجَّدًا وَسَبَّحُوا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (السجدة :١٦ - ١٧)