خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 282
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 282 گا اس کے بعد دوسرے مضمون کی طرف آؤں گا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسجِدَ اللهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلوةَ وَأَتَى الزَّكُوةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا الله * قیام نماز ۶۷۹۱ء فَعَسَى أُولَيْكَ أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ (التوبه : ۱۸) کہ مسجدوں کو آباد کرنے کا دعویٰ تو غلط بات ہے لیکن فی الحقیقت صرف وہی لوگ مسجدوں کو آباد کرتے ہیں جو اللہ پر کامل ایمان لاتے ہیں ، یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں، نماز کو اس کے تمام فرائض اور شرطوں کے ساتھ قائم کرتے ہیں ، زکوۃ دیتے ہیں اور سوائے خدا کے کسی اور سے نہیں ڈرتے أو ليكَ اَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ یہی لوگ ہیں اور صرف یہی ہیں جو اس بات کے حق دار ہیں اور قریب ہے کہ ان کو ہدایت دی جائے۔آنحضرت نے نہایت ہی پیارے انداز میں مختلف رنگ میں نماز با جماعت کو قائم کرنے کی نصائح فرمائیں۔ایک موقع پر فرمایا کہ دیکھو جو شخص صبح بھی مسجد کی طرف چلتا ہے، جو شخص رات بھی مسجد کی طرف چلتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جنت میں میں نے اس کے لئے مہمانی تیار کر کے رکھی ہے ، میں اس کا مہمان نواز بنوں گا۔( صحیح بخاری کتاب الاذان باب فضل العشاء في الجماعۃ ) اس لئے جن لوگوں کو بھی یہ توقع ہے، یہ امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اس پر ہو اس کو یہ بات مد نظر رکھنی چاہئے۔پھر آپ نے سات باتیں بیان فرما ئیں، فرمایا کہ دیکھو ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب کہ خدا کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہیں ہوگا۔بے قرار ہوگا سارا زمانہ، ساری کائنات بے قرار ہوگی۔تمام انسان جمع ہوں گے۔خدا جن لوگوں پر اپنا رحمت کا سایہ فرمائے گا ان میں ایک وہ لوگ ہوں گے جن کا دل مسجد میں اٹکا رہتا ہے۔کام میں بھی مصروف ہوتے ہیں تو توجہ مسجد کی طرف ہوتی۔نا ہے۔کب وقت آئے نماز کا تو پھر ہم خدا کے حضور حاضر ہو جائیں؟ ( صحیح البخاری کتاب الاذان باب من جلس في المسجد ينتظر الصلاة ) تو اگر آپ کے دل مسجد میں اسکے ہوئے ہیں تو آپ کے لئے خوشخبری ہے سب سے زیادہ سچ بولنے والے کی طرف سے خوشخبری ہے کہ آپ کو قیامت کے بے سایہ دن کی کوئی فکر نہیں کیونکہ خدا کا سایہ آپ کے اوپر ہوگا۔