خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 280
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 280 قیام نماز ۶۷۹۱ء جب تک کہ شرک سے بکلی پاک نہ ہوں، صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور کسی کی نہیں کرتے صرف تیری عبادت کرنا چاہتے ہیں اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک بجز کا مضمون ہے کہ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ عبادت کا ارادہ تو ہے صرف تیری کرنا چاہتے ہیں لیکن تیری مدد کے بغیر یہ حاصل نہیں ہوسکتا ، تو مدد فرمائے گا تو ہم عبادت کریں گے۔تیسرا مضمون خصوصیت کے ساتھ اس میں یہ درج ہے کہ عبادت کرنا کوئی آسان کام نہیں نماز قائم کرنے کا مفہوم اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں بیان ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں کہ قائم کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ نماز گویا بار بار گری پڑتی ہے، کھڑی نہیں ہو سکتی ، خیالات، توہمات ،خواہشات ، دنیا کے دھندے، دنیا کی فکریں بار بار حائل ہوتی ہیں دنیا کے کام روک بن جاتے ہیں۔وقت کا خیال کہ وقت کہیں اور ہم نے دینا ہے، وہ رستہ میں کھڑا ہو جاتا ہے۔بار بار گرتی ہے اور بار بار نماز میں ہم یہ دعا کرتے ہیں کہ اے خدا! قائم تو کرنا چاہتے ہیں پر تیری مدد کے بغیر قائم نہیں ہوگی۔اس کو کھڑا کرنے میں تو ہماری مددفرما۔دوسرا اس میں یہ مفہوم بیان ہوا کہ یہ وہ دروازہ ہے جس کے رستہ سے داخل ہو گے تو انعامات پاؤ گے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيم کہنے کا حق ہی نہیں ہے تمہیں جب تک پہلے عبادت کو قائم نہ کر لو۔عبادت قائم کرو گے تو پھر وہ شاہراہ تمہارے لئے کھلی ہے جس پر نبیوں نے قدم مارے اور جس کو محمد مصطفی ﷺ نے آکر کامل فرمایا اور ایک عظیم شاہراہ کے طور پر ہمارے سامنے کھلا کر دیا۔سورہ فاتحہ میں اس مضمون کو بیان کرنے میں ایک اور لطیف اشارہ اس بات کا موجود ہے کہ دنیا میں راہ گذر بھی ہوتے ہیں پگ ڈنڈیاں بھی ہوتی ہیں جو آہستہ آہستہ وقت کے ساتھ سڑکیں بنی شروع ہو جاتی ہیں۔پھر ان سڑکوں کو پختہ کیا جاتا ہے، پھر بڑی سڑکوں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے لیکن جب سب سے بڑا انسان زمانہ کا اس سڑک کو مکمل کر دیتا ہے تو پھر اس کے ذریعہ اس کا افتتاح کروایا جاتا ہے تو یہ دروازہ جو عبادت کا اس راہ سے پہلے کھڑا ہے اس کا آغاز ان معنوں میں حضرت محمد مصطفیٰ نے آ کر کیا۔آپ ہی کے ذریعہ یہ افتتاح ہوا، سڑک تو پہلے بھی تھی لیکن مکمل نہیں تھی اس شان کے ساتھ نہیں تھی۔عبادتوں کا دروازہ تو شروع میں بھی تھا لیکن ایسا کامل اور اتنا وسیع اور اتنا شاندار اور اتنا بلند دروازہ نہیں تھا۔محمد مصطفی می ظاہر ہوئے اور سورہ فاتحہ کے ذریعہ، اس چابی کے ذریعہ اس