خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 25 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 25

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 25 45 ارتقائے انسانیت اور ہستی باری تعالی ۲۶۹۱ سادہ عام فہم تشریح کر دوں کیونکہ میرے مخاطب اس وقت کچھ وہ احباب بھی ہیں جو شاید اب تک لفظ ارتقاء کو انقاء کے ساتھ مشتبہ کر رہے ہوں جس کے معنی اللہ تعالیٰ کا تقویٰ ہے۔ویسے تو ان دونوں لفظوں میں ظاہری مشابہت کے علاوہ ایک معنوی مشابہت بھی پائی جاتی ہے کیونکہ اگر اتقاء ہر روحانی ترقی کا زینہ ہے تو ارتقاء ہر حیوانی ترقی کا زینہ ہے۔مگر اس کے علاوہ یہ دونوں الفاظ بالکل مختلف معنوں پر اطلاق پاتے ہیں۔لفظ ارتقاء سائنس کی ایک اصطلاح ہے جو ایک وسیع اور بار یک علمی معنوں کو ظاہر کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔اس ایک لفظ میں ابتداء سے لیکر آج تک کی تمام انسانی پیدائش کی تاریخ کو سمیٹ کر بیان کر دیا گیا ہے۔میرے لئے آپ کو یہ مفہوم سمجھانا مشکل ہوتا مگر خوش قسمتی سے اس وقت میرے مخاطب وہ مسلمان ہیں جن کے دین کی الف ب ہی ارتقاء کے سبق سے شروع ہوتی ہے۔اس لئے خواہ وہ علم کے کسی بھی معیار پر ہوں ان کے لئے لفظ ارتقاء کا مفہوم سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہونا چاہئے کیونکہ وہ دن میں کم از کم پانچ مرتبہ ہر نماز کی ہر رکعت میں اس سبق کو دہراتے ہیں۔جب وہ سورہ فاتحہ کی تلاوت کرتے ہوئے پڑھتے ہیں اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الفاتحہ:۲) دراصل وہ ارتقاء کا پہلا اور آخری سبق پڑھ رہے ہوتے ہیں کیونکہ ارتقاء کی ابتداء اور ارتقاء کی انتہاء اور ابتداء سے لے کر انتہاء تک کا وہ یہ زمانہ جسے ہم کلمہ کُن سے لیکر فَيَكُونُ تک کا زمانہ کہہ سکتے ہیں خدا تعالیٰ کی صفت ربوبیت ہی کا مظہر ہے۔آپ سب جانتے ہیں کہ رب سے مراد وہ ہستی ہے جو ادنیٰ حالتوں سے ترقی دے کر اعلیٰ کی طرف لے جاتی ہے اور بعض شرائط کے ساتھ اسی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف حرکت کا نام سائنسی اصطلاح میں ارتقاء ہے۔پس ہم عام فہم زبان میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کے عکس کا نام ارتقاء ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ خدا تعالیٰ کی ربوبیت ہمیشہ صرف ارتقاء ہی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ربوبیت کا مفہوم بہت وسیع ہے اور اس کے اظہار کے صرف ایک حصہ کا نام ارتقاء رکھا جا سکتا ہے۔کسی چیز کا ایک معمولی حالت سے بہتر ہوتے چلے جانا دو طرح پر ہوسکتا ہے۔ایک گندم کا دانہ پہلے چھوٹا ہوتا ہے پھر آہستہ آہستہ بڑا ہونے لگتا ہے۔یہ بھی خدا تعالیٰ کی صفت ربوبیت کا ایک اظہار ہے۔ایک بچہ پہلے چھوٹا اور کمزور ہوتا ہے ، نہ وہ بات کر سکتا ہے، نہ وہ چل پھر سکتا ہے ، نہ اپنی روزی کما سکتا ہے بلکہ اتنا بے طاقت اور عاجز ہوتا ہے کہ ایک مکھی سے بھی اپنا بچاؤ