خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 274
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 274 اشاعت اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کی جانفشانیاں ۵۷۹۱ء آنسو بہاتے رہو کہ قیامت کے دن تم ہی وہ سرفراز ہو گے جو مد مصطفی ﷺ کے قدموں میں سب سے پہلے درود کے پھول نچھاور کرنے کے لئے پیش کئے جاؤ گے۔بے انتہا قربانیاں ہیں یہ ایسی جن کا کوئی تفصیلی ذکریا اشاریہ بھی بعض جگہ آپ کو نہیں ملے گا۔ایک مبلغ کی بیوی چند دن ہوئے میرے پاس آئی۔کچھ تکلیفیں تھیں ، کچھ ضرورتیں تھیں ان کی۔تو بڑی شرم کے ساتھ آہستہ سے کچھ انہوں نے بیان کیں۔مانگنے والی بات نہیں کی کچھ اور مدد جس طرح خاوند ، سہارا دینے والا نہ ہو تو انسان کہتا ہے کہ مجھے یہ کام کروا دو وہ کام کروا دو۔میں نے ان کو کہا کہ مبلغ یعنی خاوند کے جو باپ ہیں وہ بھی کچھ کمائی کرتے ہیں آخر تمہیں اس کا بھی سہارا ہوگا۔اب یہ سنئے ذرا اس باپ کی مثال۔جو بیٹا باہر گیا ہوا ہے اور جس کے بچے اس باپ کے سامنے تکلیف اٹھا ر ہے ہیں۔انہوں نے کہا وہ باپ ! وہ تو ایسا ہے کہ جو کچھ کماتا ہے خدا کی راہ میں پیش کر دیتا ہے۔ایک آنہ بھی ان بچوں پر خرچ نہیں کرتا۔وہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ جب تک میرے اعضاء میں طاقت ہے، جب تک میں کچھ کماؤں گا جس طرح میں نے بیٹا خدا کی راہ میں دیا ہے۔میرا مال بھی خدا کی راہ میں ہے۔سب کچھ خاموشی کے ساتھ وہ خرچ کرتا چلا جاتا ہے۔یہ ان کہی بات تھی ایک اتفاقا مجھے معلوم ہوئی۔سینکڑوں ہزاروں ایسی مثالیں ہونگی جن کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے کبھی نہیں کہی جائیں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایسے قربانی کرنے والوں کے متعلق رویا میں یہ خوشخبری دکھائی گئی تھی۔آپ فرماتے ہیں: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک وسیع جگہ میں ہوں اور وہاں ایک چبوترہ ہے کہ جو متوسط قد کے انسان کی قمر تک اونچا ہے اور چبوترہ پر ایک لڑکا بیٹھا ہے جس کی عمر چار پانچ برس کی ہوگی اور وہ لڑکا نہایت خوبصورت ہے اور چہرہ اس کا چمکتا ہے اور اس چہرہ پر ایک ایسا نور اور پاکیزگی کا رعب ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ انسان نہیں ہے۔اور معا د یکھتے ہی میرے دل میں گزرا کہ وہ فرشتہ ہے۔تب میں اس کے نزدیک گیا۔اور اس کے ہاتھ میں ایک پاکیزہ نان تھا۔جو پا کیزگی اور صفائی میں کبھی میں نے دنیا میں نہیں دیکھا۔اور وہ نان تازہ بتازہ تھا اور چمک رہا تھا۔فرشتہ نے وہ نان مجھ کو دیا اور کہا کہ یہ تیرے لئے اور تیرے ساتھ کے