خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 273
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 273 اشاعت اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کی جانفشانیاں ۵۷۹۱ء آئے۔چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح نے اس خواہش کو پورا کرتے ہوئے ان کو دوبارہ باہر بھجوادیا۔واپس یہاں آ کر فوت ہوئے لیکن حضرت صاحب نے ان کو دوبارہ تبلیغ کے لئے بجھوا دیا تھا۔یہ وہ قربانیاں ہیں جو میں نے چند مثالیں بیان کی ہیں۔ان کے علاوہ ایک قربانیوں کا پس منظر ہے جو واقفین کی بیویوں اور بچوں کی زندگیوں میں ہمیں یہاں ملتا ہے۔سینکڑوں، ہزاروں سلسلے کا کام کرنے والے ایسے ہیں جن کو بہت معمولی گزارے ملتے ہیں۔جن کی بیویاں اور بچے پیچھے رہ کر انتہائی تکلیف کی حالت میں زندگی بسر کرتے ہیں۔صبر اور شکر اور رضا کے سوا انکے پاس کچھ نہیں ہے۔انکی قربانیاں کسی مورخ نے لکھی نہیں ہیں۔انکے حالات پرتفصیلی نظر ڈالیں تو مجھے Keats کاوہ شعر یاد آ جاتا ہے۔جو اس نے ایک خاموش تصویر کو دیکھ کر کہا تھا جس میں ایک بنسری بجانے والا بنسری بجارہا ہے لیکن اس کی آواز نہیں آرہی۔اس نے اس تصویر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: Heard melodies are sweet But those unheard are sweeter Therefore ye soft pipes play on (Ode on a Grecianurn by John Keats) کہ وہ نغمات جو سنے جاسکتے ہیں وہ بہت میٹھے ہوتے ہیں لیکن ایسے بھی نغمات ہیں جو کبھی سے نہیں جائیں گے۔وہ ان سے بھی زیادہ میٹھے ہیں۔اس لئے اے خاموش نغمہ سرا ! تو یہ نغمے سنائے چلا جا خواہ کوئی سنتا ہے یا نہیں سنتا۔ان عورتوں سے، ان بچوں سے، ان بیٹیوں سے، ان ماؤں سے جماعت احمد یہ یہ کہتی ہے کہ اے خاموش نغمہ سر اؤ ! تم ان درد کے نغمات کو الاپتے رہو اپنی خاموش زبان میں۔تاریخ احمدیت ان کی تفصیل بیان کرے یا نہ کرے تمہیں اس سے غرض نہیں۔یہ جو کچھ قربانیاں تھیں تم نے اپنے خدا کی خاطر کیں اور خدا دلوں کی گہرائیوں پر نظر رکھتا ہے۔وہ تمہارے ہر خون کے اس قطرے سے واقف ہے جو خدا کے دین کی خاطر تم نے بہایا۔وہ ہر اس آنسو کے قطرے سے واقف ہے جو اپنے خاوندوں کے ہجر میں تم نے زمین پر گرائے۔تمہاری خاموش گریہ وزاری کو وہ جانتا ہے۔تمہارے بچوں کی تکلیفوں کو وہ جانتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ کس دکھ اور مصیبت میں تم نے یہ زندگی بسر کی ہے۔اس لئے اے خاموش نغمہ سرا ؤ ! تم دنیا سے بے نیاز اپنے اس خدا کے حضور اپنے