خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 270
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 270 اشاعت اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کی جانفشانیاں ۵۷۹۱ء لگے گا میں چلا جاؤں گا۔نمونیہ ہوا۔اخلاص کا یہ عالم تھا کہ جماعت کو کہا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ میں بیچ جاؤں تو کوئی غیر احمدی مباہلہ کرنے والا اٹھالاؤ۔میں احمدیت کی صداقت پر اس سے مباہلہ کروں گا اور کبھی ہو ہی نہیں سکتا کہ میں مرجاؤں۔چنانچہ مباہلہ کرنے والا تو کوئی نہیں ملا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس اخلاص کو دیکھتے قبول کرتے ہوئے ان کو بچا لیا۔پھر دوبارہ بیمار ہوئے۔ڈبل نمونیہ اچانک ہوا ، سرحد پر بار بار جا کر کوشش کیا کرتے تھے اور وہیں شہید ہو گئے۔اس قسم کے نوجوان ایک دو نہیں بیسیوں ہیں جو نکل کھڑے ہوئے اور خدا کی راہ میں بڑی تکلیفیں اٹھا ئیں۔پھر وہ آگے آئے جنہوں نے ساری زندگیاں بلا چون و چرا خدا کے حضور پیش کر دیں۔ان میں سے سینکڑوں ہزاروں ہیں سب کی مثالیں پیش کی جاسکتیں۔چند ایک کی مثالیں حضرت خلیفہ اسی نے جن کا بڑے پیار سے ذکر کیا ہے، میں پیش کرتا ہوں : حضرت مولوی جلال الدین صاحب شمس رض ان کے متعلق آپ فرماتے ہیں: ”ہمارے کئی مبلغ ایسے ہیں جو دس دس پندرہ پندرہ سال تک بیرونی ممالک میں فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہے اور وہ اپنی نئی بیا ہی ہوئی بیویوں کو پیچھے چھوڑ گئے۔ان عورتوں کے اب بال سفید ہو چکے ہیں لیکن انہوں نے اپنے خاوندوں کو کبھی یہ طعنہ نہیں دیا کہ انہیں شادی کے معا بعد چھوڑ کر لمبے عرصہ کے لئے باہر چلے گئے تھے۔ہمارے ایک مبلغ مولوی جلال الدین صاحب شمس ہیں۔وہ شادی کے تھوڑا عرصہ بعد ہی یورپ تبلیغ کے لئے چلے گئے تھے۔انکے واقعات سنکر انسان پر رقت طاری ہو جاتی ہے۔ایک دن انکا بیٹا گھر آیا اور اپنی والدہ سے کہنے لگا کہ اماں ابا کسے کہتے ہیں؟ سکول میں سارے بچے ابا ابا کہتے ہیں ہمیں تو پتہ نہیں کہ ابا کیا ہوتا ہے؟ کیونکہ وہ بچے تین تین چار چار سال کے تھے جب حضرت مولوی جلال الدین صاحب شمس انہیں چھوڑ کر چلے گئے اور 66 اس وقت واپس آئے جب وہ جوان ہو چکے تھے اور بیوی بوڑھی ہو چکی تھی۔“