خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 268 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 268

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 268 اشاعت اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کی جانفشانیاں ۵۷۹۱ء پڑے پڑے خدا تعالیٰ کا عرش ہلائیں تا کہ کامیابی اور فتمندی آئے۔“ الفضل مؤرخہ ۹ دسمبر ۴۳۹۱ بحوالہ تاریخ احمدیت جلد ۸ صفحه ۲۲) وہ گریہ وزاری کرنے والے آج بھی جماعت میں موجود ہیں۔لوگوں کو نظر نہیں آتے لیکن بیمار ، اپاہج ، لولے لنگڑے، بستروں پر پڑے ہوئے راتوں کو کروٹیں بدل بدل کر خدا کے حضور دعا صلى الله کرتے ہیں کہ اے آقا ! تیرے محمد مصطفی ﷺ کا دین دنیا میں پھیل جائے۔اس روح کو دیکھتے ہوئے ایک سکھ مصنف نے جماعت احمدیہ کا ذکر کیا اور بڑا خراج عقیدت پیش کیا۔وہ کہتا ہے: ترک خواہشات کی سپرٹ ( Spirit) ان کے خلیفہ نے جس تدبر اور دانائی سے ان کے اندر پھونک دی ہے وہ قابل صد ہزار تحسین و آفرین ہے۔اور ہندوستان میں آج صرف ایک خلیفہ قادیان ہی ہے جو سر بلند کر کے کہہ سکتا ہے کہ اس کے لاکھوں مریدا ایسے موجود ہیں جو اسکے حکم کی تعمیل کے لئے حاضر ہیں اور احمدی نہایت فخر سے کہتے ہیں کہ انکا خلیفہ نہایت معاملہ فہم ، دور اندیش اور ہمدرداور بزرگ ہے۔“ اس سکھ کی نظر تو صرف ہندوستان پر پڑی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ساری دنیا میں کوئی جماعت فخر کے ساتھ ان قربانیوں کو پیش نہیں کر سکتی جو جماعت احمدیہ نے حضرت امام جماعت احمدیہ کے ارشاد پر پیش کیں اور پیش کرتی چلی جارہی ہے۔جانی قربانی بھی شروع ہوتی ہے ان اموال کی قربانی کے بعد اور یہی مقصد تھا۔اس سلسلہ میں حضرت خلیفہ المسیح نے لوگوں کو اپنی طرف بلایا۔فرمایا: فوراً جلد سے جلد ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے جو سلسلہ کے لئے اپنے وطن چھوڑ دینے کے لئے تیار ہوں۔اپنی جانوں کو خطرات میں ڈالنے کے لئے تیار ہوں اور بھو کے پیاسے رہ کر بغیر تنخواہوں کے اپنے نفس کو تمام تکالیف 66 سے گزارنے پر آمادہ ہو جائیں۔“ پھر فرمایا: اگر اس قسم کے لوگ سلسلہ احمدیہ میں پیدا ہو جا ئیں تو ہماری فتح یقینی