خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 267 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 267

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 267 اشاعت اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کی جانفشانیاں ۵۷۹۱ء گزارا کیا اور کپڑے نہ بنائے۔زیورات جو تھے وہ قربان کرنے کے لئے ارشاد فرمایا اور آئندہ بنانے سے روک دیا۔گوٹا کناری سے بھی کہا کہ شادیوں پر بالکل معمولی چند ایک گوٹا کناریاں لگا لوور نہ خدا کی راہ میں سادگی کی زندگی اختیار کرو۔ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالنے کے لئے فرمایا۔خود ٹوکریاں ڈھو ئیں مٹی کی ،ساتھ مل ملکر مزدوری کی لوگوں کے سامنے ، جماعت میں ایک عجیب جوش پیدا ہو گیا۔ہر طرف وقار عمل وقار عمل شروع ہو گیا، فرمایا امیر آدمی ہو خدا کی راہ میں دیتے ہو لیکن حرص پوری نہیں ہو سکتی تمہاری جب تک خود اپنے خون پسینے کی اس طرح کمائی پیش کرو جس طرح مزدور پیش کرتا ہے۔اپنے ہاتھ سے کچھ بناؤ اور بیچو۔خود عطر بنانا شروع کیا اور ایک دفعہ ایک عورت نے ذکر کیا کہ حضور میں نے تو اس طرح کپڑے سیئے اور دیا تو آپ نے فرمایا میں بھی پیچھے نہیں ہوں۔میں نے عطر بنا کر اور بیچ کر جو کچھ تھا وہ خدا کی راہ میں پیش کیا ہے۔اطاعت کی ایک عظیم الشان روح پیدا کر دی اور ایک ایسی جماعت بنائی، ایسا پس منظر پیدا کر دیا کہ آج جو دور دور سے مغرب اور مشرق سے سعید روحیں آپ آتی ہوئی دیکھ رہے ہیں اس کے پس منظر میں وہ ساری قربانیاں ہیں۔انکی تفصیل کبھی بیان ہو ہی نہیں سکتی اور ان قربانیوں کا مقصد کیا تھا ؟ مقصد مزید قربانیاں کرنا تھا۔یہ نہیں تھا کہ اپنی ذات میں وہ قربانیاں نہیں تھیں۔منتہی نہیں تھیں یہ۔یہ وہ ذریعہ تھیں وہ سواریاں تھیں جن پر چڑھ کر پھر مجاہدین اسلام نے جا کر اپنی جانیں خدا کی راہ میں پیش کرنی تھیں۔آپ کو اس قدر شوق تھا خدا کی راہ میں جماعت کا ہر فردشامل ہو جائے کہ آپ کو خیال آیا کہ بعض لولے لنگڑے، بیمار بچارے جو شامل نہیں ہو سکتے کسی کام میں،حسرت کرتے ہوں گے کہ خدا ہمیں بھی توفیق دے۔ان کو بھی آپ نے خوشخبری دی۔آپ نے فرمایا : پس وہ لولے لنگڑے اور پانچ جو دوسروں کے کھلانے سے کھاتے ہیں۔جو دوسروں کی امداد سے پیشاب یا پاخانہ کرتے ہیں اور وہ بیمار اور مریض جو چار پائیوں پر پڑے ہیں اور کہتے ہیں کہ کاش ہمیں بھی طاقت ہوتی اور ہمیں بھی صحت ہوتی تو ہم بھی اس وقت دین کی خدمت کرتے۔ان سے میں کہتا ہوں کہ ان کے لئے بھی خدا تعالیٰ نے دین کی خدمت کرنے کا موقع پیدا کر دیا ہے۔وہ اپنی دعاؤں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا دروازہ کھٹکھٹائیں اور چار پائیوں پر