خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 266 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 266

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 266 اشاعت اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کی جانفشانیاں ۵۷۹۱ء لکھی ہوئی کتاب میں آپ کو نظر نہیں آئے گا مگر خدا کے علم میں وہ باتیں ہیں جنہوں نے خفیہ طور پر، چھپ چھپ کر خدا کے حضور اپنی جان اور مال شار کیا۔اب میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ جانی قربانی کے لئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے لوگوں کو بلایا، مالی قربانی کے لئے بھی بلایا اور اس کے لئے ایک پس منظر پیدا کیا۔یہ نہیں ہوتا کہ قربانیوں کے لئے بلایا جائے اور آپ نے کہہ دیا اسلمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِيْنَ اور گھر بیٹھ رہے۔ان قربانیوں کے لئے تیاری کرنی پڑتی ہے۔آپ فرماتے ہیں: بہت سے لوگ نیکیوں سے اس لئے محروم رہ جاتے ہیں کہ وہ ماحول پیدا نہیں کر سکتے وہ صرف یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے جب کہا کہ قربانی کریں گے تو کر لیں گے۔حالانکہ یہ صحیح نہیں۔مجھے ہزار ہا لوگوں نے لکھا ہے کہ ہم قربانی کے لئے تیار ہیں اور جنہوں نے نہیں لکھا وہ بھی اس انتظار میں ہیں کہ سکیم شائع ہو تو ہم سب کچھ نچھاور کر دیں۔مگر میں بتاتا ہوں کہ کوئی قربانی کام نہیں دے سکتی جب تک اس کے لئے ماحول نہ پیدا کیا جائے۔یہ کہنا آسان ہے کہ ہما را مال سلسلہ کا ہے مگر جب ہر شخص کو کچھ روپیہ کھانے پر اور کچھ لباس پر اور کچھ مکان کی حفاظت یا کرائے پر اور کچھ علاج پر خرچ کرنا پڑتا ہے اور اس کے پاس کچھ نہیں بچتا تو اس صورت میں اس کا یہ کہنا کیا معنی رکھتا ہے کہ میرا سب مال حاضر حضور نے اس سلسلہ میں ایک تحریک شروع کی جس کا نام تحریک جدید ہے۔اس کے بڑے تفصیلی مطالبات ہیں مثلاً سادہ زندگی اختیار کی جائے۔گھروں میں ایک کھانا کھایا جائے۔آپ نے خود بھی گھروں میں ایک کھانا کھایا اور اس معیار تک پہنچا دیا کہ مجھے یاد ہے بچپن میں اتنا معمولی کھانا ہوتا تھا کہ بعض دفعہ ہماری بہنیں روٹھ جایا کرتی تھیں ماں سے کہ ہم نہیں کھاتے یہ کھانا۔پانی ملا ہوا، کھلا شور به لیکن آج وہ بلکہ قیامت تک انکی اولادیں فخر کریں گی کہ اللہ کی راہ میں ہم نے قربانیاں دی ہیں تھا سب کچھ خدا کے اس خلیفہ کے پاس لیکن اپنے گھر کو انتہائی غربت کے ماحول میں سے گزار دیا۔کپڑے نہ بنانے کی تحریک تھی اور نہ بنائے جائیں۔خود دو سال تک جو تمیمیں پاس تھیں انہی میں