خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 264
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 264 اشاعت اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کی جانفشانیاں ۵۷۹۱ء تھی۔تحریک جدید کا جب آغاز ہوا اور انہوں نے دیکھا کہ لوگ کس طرح قربانیاں کر رہے ہیں۔حسن اتفاق سے اس سے ذرا پہلے ان کو بارہ دن کی مزدوری ملی تھی اور تمیں روپے کل ہوئے تھے۔دل چاہتا تھا دوسرے گھر میں فاقے اور کمزوری کی حالت تھی۔آخر انہوں نے یہ کہا اپنے دل پر جبر کر کے کہ میں یہ سمجھوں گا میں دس دن پیدا ہی نہیں ہوا تھا اور پہلے دس دن کی مزدوری میں خدا کی راہ میں دے دیتا ہوں۔چنانچہ دس دن کے جو پچیس روپے بنے وہ انہوں نے خدا کی راہ میں دے دیئے اور دو دن کی مزدوری گھر میں رکھ لی۔اللہ کا فضل پھر ان پر ایسا نازل ہوا کہ آج ان کا اکیلے کا تحریک جدید کا سالانہ چندہ اٹھارہ سوروپے ہے۔اب سنئے کمزور ، غریب اور لاچار عورتوں کی قربانیاں جن کے پاس زیور نہیں تھے۔ایک غریب اور ضعیف بیوہ جو افغانستان کی مہاجرہ تھی اور سوٹی لیکر بمشکل چل سکتی تھی۔خود چل کر آئی اور حضور کی خدمت میں دو روپے پیش کر دیئے۔اس کا ذکر حضرت صاحب نے خود اپنے الفاظ میں بعد میں کیا ہے۔پھر کئی ایسی عورتیں تھیں، بیوہ عورتیں جو بعض یتیم بچوں کو بھی مزدوری کر کے پال رہی تھیں مزدوری کر کے۔انکے پاس جو کچھ تھا وہ انہوں نے خدا کی راہ میں پیش کر دیا۔ایک عورت جس کے پاس تھوڑا سا زیور تھا وہ اس نے دیا پھر تسلی نہ ہوئی دوبارہ گھر گئی جو برتن تھے وہ لے آئی اور وہ بھی حاضر کر دیئے۔اس کے خاوند نے کہا کہ زیورات دے چکی ہے یہی کافی ہیں۔اس نے کہا خدا کی قسم میرے دل میں اتنا جوش ہے کہ بس چلے تو تجھے بھی بیچ کر سب کچھ خدا کی راہ میں دے دوں۔یہ وہ کیفیت تھی غرباء عورتوں کی۔دل ٹھنڈے ہی نہیں ہوتے تھے ، دیتے چلے جاتے تھیں۔برتن بیچ کے لیکن تسلی نہ ہوئی۔کہا خدا کی قسم اے خاوند ! میں تجھے بھی بیچ کر اپنا جو کچھ ہے خدا کی راہ میں دینے کو تیار ہوں۔ایک غریب بھا گلوری عورت تھی دو بکریاں تھیں صرف اس کے پاس۔دو بکریاں ہانکتی ہوئی حضرت خلیفتہ اسی کی خدمت میں پہنچی کہ حضور یہ دو بکریاں ہی ہیں ان کو قبول کرلیں۔حضرت علیہ اسیح (الثانی) لکھتے ہیں: ایک پٹھان عورت جو نہایت غریب ، چلتے وقت بالکل پاس پاس قدم رکھ کر چلتی ہے۔میرے پاس آئی اور اس نے دوروپے میرے ہاتھ پر رکھ