خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 259
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 259 اشاعت اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کی جانفشانیاں ۵۷۹۱ء یہ جو بارش کا ابتدائی قطرہ تھا ، خدا کے فضلوں کا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کے طفیل اس دنیا کی اصلاح کے لئے نازل ہوا۔پھر یہ بارش شدت اختیار کر گئی اور بڑی کثرت سے خدا نے خدا کی راہ میں قربانی کرنے والے سعید فطرت انسان مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا کئے۔جماعت احمدیہ کی قربانیوں کا ذکر بہت ہی طویل ذکر ہے خلاصہ میں نے صرف چند مثالیں چنی ہیں، مختلف انواع کی جو میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔صلى الله قرآن کریم نے ابراہیمی قربانیوں کا وہ رنگ جو محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے ماننے والوں نے اختیار کیا تھا ، اسکا بارہا ذکر فرمایا ہے اور حدیث نبویہ اور تاریخ میں بھی بکثرت اسکی مثالیں ملتی ہیں۔ایک چیز جو بڑی اہم ہے قربانیوں کے لئے قرآن کریم اسکا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ( آل عمران :۹۳) خدا کی راہ میں ادنیٰ اور گھٹیا چیز نہیں فدا کیا کرتے۔جو بہترین تمہارا ہے جب تک تم وہ خدا کی راہ میں نہ دو گے تم حقیقی نیکی کو نہیں پاسکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں جماعت نے جو مالی قربانی کا آغا ز کیا اس میں بکثرت ایسی مثالیں ملتی ہیں اور بعد میں پھر بہت ہی زیادہ ہوگئیں کہ جماعت احمدیہ کی عورتوں نے جن کو سب سے زیادہ پیاری چیز زیور ہوتا ہے وہ اس طرح پھینکا ہے خدا کی راہ میں کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں تھی ، ان کی نظر میں ذرہ بھی وقعت نہیں رکھتا تھا۔اس کا قبول کئے جانا وقعت رکھتا تھا اس کا گلے کا زیور بننا کوئی وقعت نہیں رکھتا تھا اور اس میں آغاز سب سے پہلے حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک دفعہ جلسہ سالانہ پر ضرورت پیش آئی۔آجکل تو لاکھوں مہمان کھاتے ہیں اور جماعت کو پتہ بھی نہیں لگتا۔اس سے بھی زیادہ آئیں تب بھی جماعت برداشت کر سکتی ہے۔وہ ابتدائی دور ایسا تھا کہ ایک موقع پر جلسہ سالانہ کے مہمان آئے اور ان کے لئے سالن کے پیسے نہیں تھے۔حضرت میر ناصر نواب صاحب نے عرض کیا حضور سے کہ حضور ! کیا کیا جائے ، سالن کے پیسے نہیں ہیں ؟ آپ نے اماں جان کا ذکر کر کے فرمایا کہ بیوی صاحبہ سے جا کے انکا زیور لے آؤ اور فروخت کر کے پیسوں کا انتظام کرو۔چنانچہ وہ زیور پہلا جو خدا کی راہ میں خیرات کیا گیا اس دور میں وہ حضرت اماں جان کا تھا۔آپ نے وہ زیور فروخت کیا اور