خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 249 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 249

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 249 اسلام کا بطل جلیل ۴۷۹۱ اس نوعیت کی اچانک اور بھر پور جوابی کارروائی کی دلچسپ مثال وہ ہے جو مباحثہ امرتسر میں پیش آئی۔عیسائیوں نے آپ کے دعوی مسیحیت کے پیش نظر آپ کو مبہوت اور مغلوب کرنے کی خاطر لولوں لنگڑوں، پیدائشی اندھوں اور برص والے مریضوں کا ایک جلوس آپ کے سامنے پیش کر دیا اور اچانک یہ سوال کیا کہ اے مسیحیت کے دعوے دار! ہمارا مسیح تو لولوں ،لنگڑوں کو اچھا کر دیا کرتا تھا اور پیدائشی اندھوں اور مبر وصوں کو بھی شفا بخشتا تھا اگر تو اپنے دعوی میں سچا ہے تو اپنے مسیحائی دم سے ان کو اچھا کر کے دکھا تا کہ یک دفعہ فیصلہ ہو جائے۔آپ خاموشی سے مسکراتے رہے اور انہیں پوری طرح سے موقع دیا کہ ہر پہلو سے بات مکمل کر لیں۔بظاہر یہ ایسا سخت حملہ تھا کہ دوست گھبرا گئے اور دشمن آپ کی ذلت آمیز شکست کے تصور سے دل ہی دل میں مزے لینے لگا لیکن پیشتر اس کے کہ گھٹی گھٹی عیسائی مسکراہٹیں اسلامی پہلوان کے پچھڑنے پر بے اختیار قہقہوں میں تبدیل ہو جاتیں آپ نے بڑے تحمل سے مسکراتے ہوئے انہیں جواب دیا کہ جو طاقتیں تم اپنے مسیح کی طرف منسوب کرتے ہو ہمارے نزد یک یا تو وہ تاویل طلب ہیں یا قصے ہیں۔ہم تو اس مسیح کو جانتے ہیں جو روحانی بیماروں کو اچھا کرتا تھا اور اسی قدر ہما را دعویٰ ہے لیکن ہم تمہارے بہت ممنون ہیں کہ تم نے ہمیں ایک تکلیف سے بچالیا۔جس مسیح پر تم ایمان رکھتے ہو اس نے یہ بھی تو دعوی کیا تھا کہ ایک رائی کے برابر بھی اگر تم میں ایمان ہے تو تم اگر پہاڑوں کو حکم دو گے تو وہ چل کر تمہارے پاس پہنچیں گے اور تمہارے اذن سے لولے لنگڑے اچھے ہو کر چلنے لگیں گے اور جب تم کہو گے تو پیدائشی اندھے اور مبروص شفا پا جائیں گے۔پس بجائے اس کے کہ ہم تمہارے ایمان کے امتحان کے لئے ان بیماروں کو اکٹھا کرنے کی تکلیف کرتے تم نے احسان کیا کہ ہمارے لئے یہ موقع فراہم کر دیا۔پس آگے بڑھو اور اگر رائی کے برابر بھی تمہیں مسیح کی سچائی پر ایمان ہے تو اپنے اذن سے ان بے چاروں کو اچھا کر دو۔چونکہ اپنے حملے کے وقت عیسائی اس بات پر قائم ہو چکے تھے کہ مسیح کے اقوال ظاہری اور حقیقی معنی رکھتے ہیں کسی روحانی تاویل کے محتاج نہیں اس لئے ظاہر ہے کہ ان کے لئے جواب کی کوئی صورت نہ بچی تھی۔حاضرین جلسہ کا بیان ہے اس اچانک اور شدید تر جوابی حملے سے عیسائی پادریوں کے اوسان خطا ہو گئے اور ایک ہر اس ان پر طاری ہو گیا۔وہ ان معذوروں، بے چاروں کو دھکے دے دے کر وہاں سے نکالنے لگے کہ جلد تر نظر سے دور ہوں اور ان کی ذلت کے گھڑی کسی طرح ملے۔(جنگ مقدس روحانی خزائن جلد ۶ صفحه: ۱۵۰ - ۱۵۵)