خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 245 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 245

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 245 اسلام کا بطل جلیل ۴۷۹۱ء کر کہ جب حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو صلیب سے اتارا گیا اس وقت تک کہ جب خدا نے آپ کی روح کو اپنی ابدی جنتوں کی طرف بلایا مسیح محمدی نے آپ کے سفر ہجرت کی ہر منزل سے پردہ اٹھایا ، ہر سنگ میل کو دریافت کیا اور صدیوں کی خاک تلے دبے ہوئے ان نقوش پا کو اجاگر کیا جو مظلوم مہاجرین کا ایک قافلہ فلسطین سے جنت کشمیر کی طرف ہجرت کرتے ہوئے تاریخ کی مدفون راہوں پر چھوڑ آیا تھا۔اللہ اللہ کیا شان ہے اس تحقیق کی ! اللہ اللہ کیا شان ہے اُس احمد مکی کی جس کی غلامی کا دم بھر کر قادیان میں یہ عارف ربانی پیدا ہوا۔عیسائیوں اور ہندؤوں کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سکھ مت کے نسبتاً محدود محاذ پر بھی اسلام کی شاندار نمائندگی فرمائی۔اس موقع پر بھی آپ کی یہ امتیازی شان قائم رہتی ہے کہ غیر مذاہب کے ساتھ اسلام کے مقابلے میں آپ بڑی گہری تحقیق اور جستجو کے بعد بین اور قاطع دلیل کا ایک ایسا نیا ہتھیار دریافت کرتے ہیں جس کی نظیر پہلے کوئی نہیں ملتی اور جو دشمن اسلام کو ایک دفعہ حیران اور مبہوت کر دیتا ہے۔جس کی قوت ضد اور تعصب کے خوفوں کو توڑتی اور جس کی لطیف آگ پوشیدہ سروں کو دو نیم کرتی ہوئی دلوں سے گزر جاتی ہے۔اب ذرا دیکھئے کہ سکھ مت پر دین اسلام کو غالب کرنے کے لئے آپ نے کیسا لطیف اور اچھوتا انکشاف فرمایا کہ نام نہاد سکھ مت کے بانی حضرت گرو بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ تو خود ہی مسلمان تھے بلکہ محمد عربی کے عشق میں گرفتار اور اسلام کے جان نثار خادموں میں سے تھے۔ان کی طرف کوئی نیا مذہب منسوب کرنا سراسر ظلم اور نا انصافی ہے۔ظاہر بات ہے کہ اگر سکھ مت کے بانی کو ہی محمد رسول کا ایک ادنی غلام اور سچا مسلمان ثابت کر دیا جائے تو پیچھے سکھ مت کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سکھ مت کی علیحدہ مذہبی حیثیت کے خلاف بکثرت دوسرے دلائل پیش کرنے کے علاوہ الہام الہی کی روشنی میں وہ سر بستہ راز دریافت فرمالیا جو حضرت بابا نانک کے مسلمان ہونے کا ایک ناقابل تردید ثبوت فراہم کرتا تھا۔صلى الله العروسة حضرت بابا نانک علیہ الرحمہ کا مقدس چولہ حضرت بابا صاحب کی ایک متبرک یادگار کے طور پر ڈیرہ بابا نا تک میں محفوظ چلا آتا ہے اور ہر سال صرف ایک بار بڑی حزم واحتیاط کے ساتھ باہر نکالا جاتا ہے۔سکھوں کا یہ عقیدہ تھا کہ گرو با نا نک سے اللہ تعالیٰ نے مخفی الہامی زبان میں کلام فرمایا جو اس