خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 241 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 241

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 241 اسلام کا بطل جلیل ۴۷۹۱ ء منشور محمدی بنگلور ۲۵ / رجب المرجب ۱۳۰۰ھ۔بحوالہ تاریخ احمدیت جلد اصفحہ : ۱۷۶) مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اس رائے کا اظہار فرمایا تھا کہ آج تک تو یہ کتاب لا جواب اور بے نظیر ہے آئندہ کی خبر نہیں مگر مولانا محمد شریف صاحب فرماتے ہیں: ”لا الہ الا اللہ حق اور محمد رسول اللہ برحق ہم تو فخریہ یہ کہتے ہیں کہ جواب ممکن نہیں ہاں قیامت تک محال ہے۔“ آپ کے اولین مد مقابل ، ہندو عیسائی اور سکھ تھے ان کے مقابل پر اسلام کی تائید میں جو دلائل کا اندہ ہوا سیل رواں آپ کے قلم سے پھوٹا آج میں ان تینوں مذاہب سے متعلق آپ کے ان میں سے ایسے تین دلائل نمونہ پیش کرتا ہوں جن کی دو امتیازی خصوصیات ہیں۔اول یہ کہ ان کی کوئی نظیر آپ سے قبل کے علم کلام کی دنیا میں نہیں ملتی۔دوسرے یہ کہ یہ دلائل گہری تحقیق کا نتیجہ ہیں محض منطقی نوعیت کے شعبدے نہیں گویا اس عصائے موسیٰ کے مشابہ ہیں جس کے سامنے شعبدہ بازی کے سانپ رسیاں بن گئے تھے۔ہندومت کے مقابلے میں ہندو مذہب کے تمام فرقے اپنے اندرونی اختلافات کے باوجود اس عقیدے اور دعوے میں متفق تھے کہ سنسکرت وہ واحد الہامی زبان ہے جس میں خدا تعالیٰ نے اپنے رشیوں سے کلام کیا۔اس دعوے کے ثبوت میں وہ یہ مفروضہ بھی پیش کرتے تھے کہ سنسکرت دنیا کی وہ قدیم ترین زبان ہے جو کسی دوسری زبان کی مرہونِ منت نہیں جب کہ دنیا کی تمام دوسری زبانیں سنسکرت سے نکلی ہوئی ہیں۔پس ایک کامل زبان کی حیثیت سے سنسکرت ہی اس بات کی اہل تھی کہ اس میں خدا کا کلام نازل ہو۔پس اس موضوع پر قرآن اور ویدوں میں سے در حقیقت کون سی کامل اور الہامی کتاب ہے آپ کے اور ہندوؤں کے درمیان شدید معرکہ آرائی ہوئی۔ہندو دعاوی کی لغویت اور اسلامی نظریے کی حقانیت ثابت کرنے کے لئے آپ نے جو سینکڑوں قوی دلائل پیش کئے ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ نے گہری تحقیق کے بعد یہ ثابت فرمایا کہ سنسکرت نہ تو دنیا کی پہلی زبان ہے نہ ہی الہامی زبان ہے نہ کوئی ایسی خوبی اپنے اندر رکھتی ہے کہ اسے بهترین تو در کنار عام درجے کی اچھی زبان بھی سمجھا جائے۔اس کے برعکس عربی کے حسن و کمال اور کمال حسن پر آپ نے ایک بے نظیر تحقیق فرمائی جس میں ثابت فرمایا کہ عربی نہ صرف ایک کامل زبان