خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 240
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 240 اسلام کا بطل جلیل ۴۷۹۱ ء محمد حسین بٹالوی نے وہ تاریخی خراج عقیدت پیش کیا جو اس نوعیت کا ہے کہ اسلامی جہاد کا مورخ ہمیشہ اسے دہراتا رہے گا۔مولوی صاحب موصوف نے فرمایا: ہمارے رائے میں یہ کتاب اس زمانے میں اور موجودہ حالت کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی اور آئندہ کی خبر نہیں“۔اشاعۃ السنتہ جلدے نمبر ۶ صفحه: ۳۴۸ بحوالہ تاریخ احمدیت جلد ا صفحه : ۱۷۲) مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے اس مشہور و معروف اعتراف حق کے بعد ہندوستان کے ایک اور عالم دین صحافی کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں جن کی بزرگی اور علم وفضل کا شہرہ ہندوستان کے طول وعرض میں پھیلا ہوا تھا۔جناب مولانا محمد شریف صاحب بنگلوری مدیر اخبار منشور محمدی، براہین احمدیہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: مدت سے ہماری آرزو تھی کہ علمائے اسلام سے کوئی حضرت جن کو خدا نے دین کی تائید اور حمایت کی توفیق دی ہے کوئی کتاب ایسی تصنیف یا تالیف کریں جو زمانہ موجودہ کی حالت کے موافق ہو۔اور جس میں دلائل عقلیہ اور براہین نقلیہ قرآن کریم کے کلام اللہ ہونے پر آنحضرت ﷺ کے ثبوت نبوت پر قائم ہوں۔خدا کا شکر ہے کہ یہ آرزو بھی بر آئی۔یہ وہی کتاب ہے جس کی تالیف یا تصنیف کی مدت سے ہم کو آرزو تھی۔۔۔۔۔۔۔افضل العلماء فاضل جلیل جرنیل فخر اہل اسلام ہند مقبول بارگه صمد جناب مولوی میرزا غلام احمد صاحب رئیس اعظم قادیان ضلع گورداسپور پنجاب کی تصنیف ہے۔سبحان اللہ کیا تصنیف منیف ہے کہ جس سے دین حق کا لفظ لفظ سے ثبوت ہو رہا ہے۔ہر ہر لفظ سے حقیت قرآن و نبوت ظاہر ہو رہی ہے۔مخالفوں کو کیسے آب و تاب سے دلائل قطعیہ سنائے گئے ہیں۔دعویٰ ہی مدلل براہین ساطعہ ثبوت ہے۔مثبت بہ دلائل قاطعہ ، تاب دم زدنی نہیں۔اقبال کے سوا چارہ نہیں۔ہاں انصاف شرط ہے ورنہ کچھ بھی نہیں۔ایھا الناظرین! یہ وہی کتاب ہے جو فی الحقیقت لا جواب ہے۔“