خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 230 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 230

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 230 اسلام کی نشاۃ ثانیہ خلیفۃ الرسول سے وابستہ ہے ۳۷۹۱ء اور نجات کی راہ ہو؟ اسلام پہلے بھی زندہ ہوا تھا اور پھر بھی زندہ ہو گا۔کامل موت سے یہ کامل زندگی کا چشمہ پھر بھی پھوٹے گا لیکن بعینہ اسی راہ پر چل کر جس پر اس آقائے دو جہان نے اپنی قوم کو چلایا اور ویسی ہی دعاؤں سے قوت پا کر جو آپ نے رب العزت کی بارگاہ میں کیں۔کوئی مصلح ، اور خوب کان کھول کر سن لو کہ کوئی مصلح اور کوئی ریفارمر اور کوئی معجزہ دکھانے والا اس معجزہ سے ہٹ کر اور اس معجزہ سے بڑھ کر کوئی معجزہ امت محمدیہ کے لئے نہیں دکھا سکتا۔وہ رسول جسے تمام کائنات کے لئے اور تمام زمانوں کے لئے خلیفتہ اللہ مقرر کیا گیا ممکن نہیں کہ اس کے نقوش پا کی پیروی کے بغیر کوئی اس کے مسند خلافت پر متمکن کیا جائے اور ممکن نہیں کہ ایسے خلیفہ الرسول کی بعثت کے بغیر امت کے درد کا کوئی مداوا ہو سکے۔پس قادیان سے اٹھنے والی اس آواز نے امت محمد ﷺ کو امت کے احیائے نو کا یہ فلسفہ سمجھایا اور یہ ولولہ انگیز اعلان کیا: سچائی کی فتح ہوگی اور اسلام کے لئے پھر اس تازگی اور روشنی کا دن آئے گا جو پہلے وقتوں میں آچکا ہے اور وہ آفتاب اپنے پورے کمال کے ساتھ پھر چڑھے گا جیسا کہ پہلے چڑھ چکا ہے۔لیکن ابھی ایسا نہیں ضرور ہے کہ آسمان اسے چڑھنے سے روکے رہے جب تک کہ محنت اور جانفشانی سے ہمارے جگر خون نہ ہو جائیں اور ہم سارے آراموں کو اس کے ظہور کے لئے نہ کھو دیں اور اعزاز اسلام کے لئے ساری ذلتیں قبول نہ کریں۔اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے۔وہ کیا ہے؟ ہمارا اسی راہ میں مرنا۔یہی موت ہے جس پر اسلام کی زندگی مسلمانوں کی زندگی اور زندہ خدا کی تجلی موقوف ہے۔پھر آپ نے فرمایا: (فتح اسلام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه: ۱۰) و ہی صبح صادق ظہور پذیر ہوگئی ہے جس کی پاک نوشتوں میں پہلے سے خبر دے دی گئی تھی۔خدائے تعالیٰ نے بڑی ضرورت کے وقت تمہیں یاد