خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 222 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 222

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 222 اسلام کی نشاۃ ثانیہ خلیفۃ الرسول سے وابستہ ہے ۳۷۹۱ء چمن میں ہوا آچکی ہے خزاں کی پھری ہے نظر دیر سے باغباں کی صدا اور ہے بلبل نغمہ خواں کی کوئی دم رحلت ہے اب گلستاں کی تباہی کے خواب آرہے ہیں نظر سب مصیبت کی ہے آنے والی ہے سحراب؟ ڈاکٹر اقبال نے ان حالات کو ان الفاظ میں بیان کیا: شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود؟ وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی افغان بھی ہو تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تم مسلمان بھی ہو ہاتھ بے زور ہیں ، الحاد سے دل خوگر ہیں امتی باعث رسوائی پیغمبر ہیں بت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیں تھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیں بادہ آشام نئے بادہ نیا تم بھی نئے حرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئے جن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہو نہیں جس قوم کو پروائے نشیمن، تم ہو بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہو بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن، تم ہو