خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 221 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 221

اسلام کی نشاۃ ثانیہ خلیفۃ الرسول سے وابستہ ہے ۳۷۹۱ء تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 221 جو دیں کہ ہمدرد بنی نوع بشر تھا اب جنگ و جدل چار طرف اس میں بپا ہے دولت ہے نہ عزت نہ فضیلت نہ ہنر ہے اک دیں ہے باقی سو وہ بے برگ و نوا ہے بگڑی ہے کچھ ایسی کہ بنائے نہیں بنتی ہے اس سے یہ ظاہر کہ یہی حکم خدا ہے کشتی امت کے نگہبان فریاد ہے بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے تدبیر سنبھلنے کی ہمارے نہیں کوئی ہاں اک دعا تیری کہ مقبول خدا ہے (مسدس حالی صفحہ ۱۱۷- ۱۲۰ ) پھر کہتے ہیں: پھر اک باغ دیکھے گا اجڑا سراسر جہاں خاک اڑتی ہے ہر سو برابر نہیں تازگی کا نہیں نام جس پر ہری ٹہنیاں جھڑ کیں جس کی جل کر نہیں پھول پھل جس میں آنے کے قابل ہوئے روکھ جس کی جلانے کے قابل یہ آنحضرت کی قوم کے حالات بیان ہورہے ہیں۔کہیں تازگی کا نہیں نام جس پر ہری ٹہنیاں جھڑ گئیں جس کی جل کر نہیں پھول پھل جس میں آنے کے قابل ہوئے روکھ جس کے جلانے کے قابل