خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 220 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 220

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 220 اسلام کی نشاۃ ثانیہ خلیلۃ الرسول سے وابستہ ہے ۳۷۹۱ء ہر شخص اس کا حامی بن گیا، جس کا نقشہ حیرت انگیز ، جس کے ارکان مضبوط ، جس کی عمارت مستحکم، جس کی دیوار میں بڑی زبردست ، جس کے اطراف شجاعت کی فصیل کھینچی ہوئی تھی، جس کے صحن میں اترنے والی آفتیں بے اثر ہو جاتی تھیں، جس کے مدبروں کے ہاتھوں مشکل عقدے حل ہوتے تھے، جس کے شجر عزت کی جڑیں مضبوط اور شاخیں خوب پھلی پھولی تھیں، جس کی حکومت دور ونزدیک سب پر پھیلی ہوئی تھی ، جس کی عظمت کا سکہ ہر طرف چلتا تھا، جس کا کلمہ سب پر چھایا ہوا تھا اور جس کی قوت درجہ کمال تک پہنچ چکی تھی۔۔۔گویا وہ عالم کی روح مد برتھی اور عالم اس کے لئے جسم اور اسکے تحت کام کرنے والا۔ان تمام ترقیوں کے باوجود اس قوم کی عمارت کمزور ہوگئی ، اس کے نظم ونسق میں انتشار پیدا ہو گیا، خواہشات نے اسمیں پھوٹ ڈالدی، اس میں اتحادو اتفاق باقی نہ رہا، اس کا شیرازہ بکھرنے لگا ،مضبوط گر ہیں کھلنے لگیں ، تعاون و توافق کا دستہ ٹوٹ گیا۔۔۔۔امت میں یہ مرض اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ وہ ہلاکت کے قریب پہنچ گئی ہے اور اپنے بستر مرگ پر وہ ہر ظالم کا شکار اور ہر درندہ کا نوالہ بن گئی ہے۔“ امت کا ماضی حال اور اسکی بیماریوں کا علاج از مقالات جمال الدین افغانی ، صفحہ ۱۲۱- ۱۲۳) اس در دوالم کی کہانی کو بعد کے شعراء نے بھی بیان کیا۔اس وقت تک یہ درد اور بھی بڑھ چکے تھے۔کچھ ان کی زبانی بھی سن لیجئے۔علامہ حالی فرماتے ہیں: اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے امت پہ تیری آکے عجب وقت پڑا ہے جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے پر دیس میں وہ آج غریب الغرباء ہے وہ دین ہوئی بزم جہاں جس سے چراغاں اب اسکی مجالس میں نہ بتی نہ دیا ہے