خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 219 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 219

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 219 اسلام کی نشاۃ ثانیہ خلیفۃ الرسول سے وابستہ ہے ۳۷۹۱ء ہے پھر اس کو بیماریاں لاحق ہوئیں اور اس کے اجزاء کی پیوستگی میں تفرق و انحلال پیدا ہونے لگا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ سارا جسم پارہ پارہ ہوکر تحلیل ہو جائے۔یہ ضعف و انحلال اس وقت سے شروع ہوا جب رتبہ علمیت رتبہ خلافت سے جدا ہوا۔خلفاء راشدین رضی اللہ نھم علم اور خلافت کے جامع تھے لیکن عباسی خلفاء شرف علم اور تفقہ فی الدین اور اصول و فروع میں اجتہاد کے مرتبہ سے اتر کر محض نام کی خلافت پر قانع ہو گئے۔خلفاء کی اس بے مائیگی نے بکثرت مذاہب پیدا کر دئیے یہاں تک کہ جب تیسری صدی ہجری شروع ہوئی یہ اختلافات اس قدر شاخ در شاخ ہو چکے تھے کہ اس کی مثال کسی دین میں نہیں ملتی۔ایک طرف یہ ہوا تو دوسری طرف عیش کی فراوانی اور عقل و عزم کی قلت نے وحدت خلافت کو تقسیم کر ڈالا۔بغداد میں عباسیوں کی خلافت قائم تھی کہ مصر ومغرب میں فاطمیہ کی خلافت اور اندلس اور اس کے اطراف میں امویہ کی خلافت قائم ہوگئی۔اس تقسیم و تجزی نے کلمہ امت کو پراگندہ اور اجماع واتفاق کو گروہ گروہ کر دیا۔۔۔۔۔۔۔اختلافات کی شدت ان کے نیزے آپس ہی میں توڑ رہی تھی کہ چنگیز خان کا ظہور ہوا۔چنگیز خان اور اس کی اولا د تیمور لنگ اور اس کے احفاء یکے بعد دیگرے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے اور اتنا قتل کیا کہ ذلیل کر دیا۔اسقدر ذلیل کیا کہ وہ خود اپنی ہی نگاہ میں اپنے نفس کے سامنے ذلیل ہو گئے۔شیرازہ ملت ورق ورق ہو گیا۔بادشاہوں اور عالموں کے ربط کے لکھے ٹوٹ گئے۔انفرادیت نے اس شدت سے سراٹھایا کہ ساری امت فرد فرد ہوگئی۔“ (مسلمانوں کا انحطاط وجمود اور اسکا سبب، از مقالات جمال الدین افغانی صفحہ اکا، ۱۷۳) پھر کہتے ہیں: " کیا تم نے اس امت کو دیکھا ہے جو پہلے کسی شمار میں نہیں تھی پھر وہ عدم کی اندھیری کو چاک کر کے باہر نکلی اور جب باہر نکلی تو اس شان سے کہ