خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 218 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 218

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 218 اسلام کی نشاۃ ثانیہ خلیفۃ الرسول سے وابستہ ہے ۳۷۹۱ء ہوا، بادشاہت نے خلافت کی جگہ لے لی اور شرک نے تو حید کو بے دخل کرنا شروع کیا ،ملت واحدہ فرقوں میں بٹنے لگی اور دین اسلام کی وحدت پارہ پارہ ہوتی رہی۔کوئی نہیں تھا جو اس انتشار کو روک سکے۔شیعہ اور سنی ، خارجیہ اور مرجیہ، معتزلہ اور انکی شاخ در شاخ تقسیمیں ، اہل عدل اور اہل حکم، قدریہ اور شنو یہ جمیہ اور وادیہ معطلہ - شیعوں کی اندرونی سیمیں : اثنا عشریہ، اسماعیلیہ، طبعیہ ، حشیشین ، دروزی، کرامطی۔اہل سنت کی فقہی تقسیمیں مالکی ، شافعی، حنفی، جنبلی۔پھر ہندوستان کے پیداوار فرقے : بریلوی، دیوبندی، چکڑالوی۔غرضیکہ آنحضور ﷺ کا پیارا دین واحد بٹتے بٹتے ۷۲ فرقوں میں تقسیم ہو گیا۔ادھر دین اسلام پر یہ گزر رہی تھی ادھر دنیائے اسلام کا حال بھی سن لیجئے کہ مسلمانوں کی شرق تا غرب پھیلی ہوئی عظیم سلطنت ایک دو تین خلافتوں میں بٹتی ہوئی آخر بیسیوں چھوٹی چھوٹی بے زور اور بے ہمت ریاستوں میں تبدیل ہو گئی۔ان میں سے کچھ تو ابتک اس حال میں زندہ ہیں کہ اپنی حفاظت اور بقا کے لئے کبھی مشرق کی طرف دوڑتی ہیں اور کبھی مغرب کی آغوش میں جابیٹھتی ہیں، دونوں ہی وقت ان کے ہاتھ میں کشکول ہوتا ہے اور کچھ ایسی ہیں جو آزاد حیثیت سے زندہ نہ رہ سکیں اور غیروں کی غلامی کا جوا پہن کر حقیر غلامانہ زندگی پر راضی ہوگئیں۔کچھ سلطنتیں ایسی مٹیں کہ ان کا نشان تک باقی نہ رہا نہ غلامی کا سوال رہا نہ آزادی کا جھگڑا اور اس طرح انکی صف لپیٹ دی گئی کہ محاورۃ نہیں بلکہ فی الحقیقت نام کا بھی مسلمان اس خطہ پر نظر نہ آتا تھا جس پر اس نے آٹھ سو سال تک بڑی شان اور بڑے جلال اور بڑی تمکنت کے ساتھ حکومت کی تھی۔پین کی سرزمین وہی بدقسمت سرزمین ہے جہاں مسلمانوں کے خاموش مقابر اور شاندار مساجد اور بڑے بڑے عالیشان قلعے بھی ملتے ہیں لیکن نہ تو کوئی مجاور نظر آتا ہے نہ کوئی نمازی نہ قرآن خوان نہ نگران نہ محافظ۔یہ ایسا کیوں ہوا ؟ صرف اس لئے اور صرف اس لئے کہ خلافت راشدہ کا نظام ہمارے ہاتھ سے جاتارہا۔یہ وہ نظام تھا جس میں اسلام اور ملت اسلامیہ کی جان مضمر تھی۔یہی وہ حصن حصین تھا جو اسلام کو سب آفات سے بچائے ہوئے تھا جب اس قلعہ کا دروازہ سر ہوا تو مسلمانوں اور اسلام پر جو کچھ گزری اس کا جائزہ لیتے ہوئے مشہور مسلمان مفکر جمال الدین افغانی فرماتے ہیں : ر ملت اسلام کی مثال ایسی تھی جیسے قوی الجثہ صحیح المزاج جسم عظیم ہوتا