خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 19 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 19

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 19 ارتقائے انسانیت اور ہستی باری تعالی ۲۶۹۱ ہو چکی ہیں اور عین ممکن ہے کہ یہ غلط باتیں بعد کے انسانوں نے اپنی طرف سے ان میں داخل کر دی ہوں۔چنانچہ اس عذر کی آڑ میں وہ اپنے خدا اور رسول کو غلطی کے اس الزام کی زد سے محفوظ کر سکتے ہیں مگر مسلمانوں کے لئے ایسی کوئی جائے پناہ نہیں ہے کیونکہ ان کی کتاب کا تو ابتدائی دعوی ہی یہی ہے کہ الرّه ذَلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ ( البقرة :٣،٢) میں خدا ہوں سب سے زیادہ جاننے والا۔یہ وہ کتاب ہے جس میں قطعا کوئی شک نہیں ،متقیوں کے لئے ہدایت ہے۔پس اگر نعوذ باللہ اس کتاب میں کوئی ایسا امر بیان ہو جو مشاہدہ سے یقینی طور پر غلط ثابت ہوا۔مثلاً یہ کہ زمین چپٹی ہے ،یا چاند، سورج کا زمین سے فاصلہ ڈیڑھ سو میل قرار دیا جائے تو خواہ مسلمان علماءلاکھ کہتے رہیں کہ یہی درست ہے اور سائنس جھوٹ بولتی ہے گر کو ئی تعلیم یافتہ غیر مسلم ان کے دعوی کو تسلیم نہیں کرے گا اور اسلام کو اس خلاف عقل مذہب کی حیثیت سے ٹھکرا دے گا۔پس اس لحاظ سے یہ مضمون نہایت ہی اہم ہے اور ضروری ہے کہ جماعت احمدیہ کے علماء اس کی طرف خاص توجہ دیں۔اسکے علاوہ بھی تخلیق انسانی کو ہستی باری تعالیٰ کے ساتھ ایک براہ راست تعلق ہے اور خالق کی عظمت کا تصور باندھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم تخلیق پر غور کریں۔یہ تعلق تمثیلی زبان میں ایسا ہی ہے جیسے خوشبو کا مشک سے اور دھوپ کا سورج سے یا پھل کا اپنے درخت سے ہوتا ہے۔پس اگر درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اور سورج دھوپ سے اور خوشبو کا بھی مشک سے ایک نہ ٹوٹنے والا رشتہ مسلم ہے تو پھر کیسے ممکن ہے کہ ہم خالق کی تخلیق پر غور کئے بغیر اسے پہچان سکیں۔یہی وجہ ہے کہ بار بار قر آن کریم مسلمانوں کو اپنے گرد و پیش زمین آسمان ، چاند سورج ، خشکی اور تری ، دن اور رات پر غور کرنے کی تلقین فرماتا ہے۔مگر انتہائی بدقسمتی ہے کہ باوجود اس بار بار کی تاکید کے مسلمانوں نے روحانی عالم کی طرح جسمانی عالم پر بھی غور کرنا ترک کر دیا اور دین بھی ان کے ہاتھ سے جاتا رہا اور دنیا بھی۔جسمانی عالم پر غور کرنا رفتہ رفتہ آخران غیر مسلموں کی جاگیر بن گیا جو یا تو خدا کے تصور سے ہی نا آشنا تھے یا ایک ایسا غلط تصور رکھتے تھے جو اس مادی عالم کے ساتھ مطابقت نہ کھاتا تھا پس بسا اوقات انکے علمی انکشافات ان کو خدا تعالیٰ کے قریب لے جانے کی بجائے اس سے اور بھی دور لے گئے اور وہ بد قسمت خود بھی ہلاک ہوئے اور اوروں کو بھی ہلاک کیا۔