خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 215
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 215 اسلام کی نشاۃ ثانیہ خلیفۃ الرسول سے وابستہ ہے ۳۷۹۱ء اسلام کی نشاۃ ثانیہ خلیفۃ الرسول سے وابستہ ہے ( بر موقع جلسه سالانه ۱۹۷۳ء) تشہد وتعوذ کے بعد آپ نے درج ذیل آیت کی تلاوت فرمائی: وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأُولَيكَ هُمُ الْفَسِقُونَ ( النور :۵۶) اسلام کے تنزل کا آغاز خلافت راشدہ کی ناقدری سے ہوا۔یعنی اس آسمانی اور روحانی قیادت کی ناقدری سے ہوا جو بجا طور پر سید ولد آدم کی جانشین تھی اور جس کے اس دنیا سے اٹھ جانے کے بعد آنحضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی جانشینی کا مربوط سلسلہ وار اور مرکزی نظام اس دنیا سے اٹھ گیا۔وہ برکتیں اٹھ گئیں جو اس نظام سے وابستہ تھیں، دین اسلام میں تمکنت باقی نہ رہی ،خوف نے امن کی جگہ لے لی ، توحید خالص نا پید ہونے لگی اور وحدت ملی پارہ پارہ ہوگئی۔خلافت راشدہ کے انقطاع کے ساتھ وہ فتنے موج در موج سرزمین اسلام میں داخل ہونے لگے جن کے بارہ میں پہلے ہی سے مخبر صادق نے مسلمانوں کو خبر دار فرما رکھا تھا۔انوالہ کے ایک صحابی حضرت حذیفہ کو آنے والے فتنوں کے متعلق بہت جستجو رہا