خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 212
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت کرتے ہوئے فرمایا: 212 حقیقت نماز ۲۷۹۱ء إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ (الفتح: 11) E یعنی اے محمد ! بیعت رضوان میں شامل ہونے والوں نے تیری نہیں اللہ کی بیعت کی ہے تیرا وہ ہاتھ جو ان کے ہاتھوں پر ہے اللہ کا ہاتھ ہے۔پھر فرمایا: وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَى (الانفال: ۱۸) کہ اے محمد امیدان بدر میں جب تو نے کنکریوں کی مٹھی کفار کی طرف پھینکی تو وہ تو نے درمیں جب ونے کمر نہیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھی۔یہ آیات فی الحقیقت توحید کا معراج بیان کر رہی ہیں اور اسی ایک ازلی اور ابدی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ اس درجہ توحید میں کامل ہوئے کہ غیر تو غیر خود اپنے وجود کو بھی راہ خدا میں فنا اور کالعدم کر دیا پھر بعد اس ثناء کامل کے جو کچھ اس عبد کامل سے ظہور میں آیا وہ خدا کی مرضی اور خدا کا فعل اور خدا کا جلال و جمال تھا۔وہ خدا تو نہ تھا مگر اس نے اپنے وجود کے ذرے ذرے کو خدا کی تخت گاہ اور خدا کا عرش بنانے کے لئے اپنی ذات سے خالی کر دیا۔وہ خدا تو نہ تھا مگر باخداوہ خدا ہی کی جلوہ گاہ تھا، وہ خدا ہی کی جلوہ گاہ تھاوہ خدا ہی کی جلوہ گاہ تھا۔الحضور اللہ نے قرآنی تعلیم کی روشنی میں اپنے رب سے حقیقت نماز کی معرفت حاصل فرمائی اور نماز کی جو اعلیٰ اور ارفع تصویر قرآن نے کھینچی تھی اپنے عمل کے سانچے میں ڈھال لی۔اپنے صحابہ کو بھی تلقین فرمائی اور ان کو اسی رنگ میں رنگین کر دیا۔یہاں تک کہ میدان بدر میں جب ان صحابہ کی ہلاکت کا خطرہ تھا آنحضور نے اپنے رب سے یہ دعا کی کہ اللّهُمَّ إِنْ أَهْلَكْتَ هَذِهِ الْعِصَابَةَ فَلَنْ تُعْبَدُ فِي الْاَرْضِ اَبَداً ( سنن ترندی کتاب تفسیر القرآن باب من سورۃ الانفال ) کہ اے اللہ ! عبادت کرنے والوں کا یہ وہ خلاصہ اور وہ روح ہے جو میں نے خالص تیری عبادت کے لئے تیار کی ہے۔یہ وہ عابد بندے ہیں جن کی عبادت کے سامنے دوسری کوئی عبادت نہیں۔پس آج اگر بدر کے میدان میں تو نے انہیں ہلاک ہونے دیا تو اے ہمارے معبود اور مسجود! گویا دنیا میں پھر تیری کبھی