خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 211 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 211

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 211 حقیقت نماز ۲۷۹۱ء چمک چھوڑ دیتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد اصفحہ: ۱۰۵) قرآن کریم اس کا ذکر کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے: فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبَّةٍ أَحَدًا (الكهف : (11) یعنی جو کوئی بھی اپنے رب کی لقاء کی تمنا لئے ہوئے ہے اسے چاہئے کہ وہ عمل صالح اختیار کرے اور اپنے رب کی عبادت کو ایسا خالص کر لے کہ اس میں شرک کی کوئی ملونی باقی نہ رہے يعني لا اله الا اللہ کا جو اقرار انسان نے اپنی زبان سے کیا تھا جب کامل طور پر یہ اقرار اس کے افعال میں نمودار ہو جائے اور اس کی عبادت زبان حال سے لا الہ الا اللہ کا ودر کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ اسے خلعت لقاء سے نوازتا ہے۔یہاں یہ بات یادر کھنے کے لائق ہے کہ اس عظیم الشان ارتقاء کے بعد بلکہ اسی کے نتیجے الله میں حقیقت محمدی پیدا ہوتی ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ کا ظہور ہوتا ہے۔چنانچہ کلمہ طیبہ میں لا اله الا اللہ کے بعد محمد رسول اللہ کا اقرار اسی حکمت اور فلسفے کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ کامل توحید جب کمال نام کے ساتھ انسانی اعمال کے سانچے میں ڈھلتی ہے تو ان دونوروں کے اتصال سے خلق آخر رونما ہو جاتی ہے اور اسی کا نام محمد رسول اللہ ہے۔یعنی ایک وجود جس نے لا اله الا اللہ کے مفہوم کو کمال تام کے سے ساتھ اعمال کے سانچے میں ڈھالا اور گویا مجسم تو حید بن گیاوہ ایک اور صرف ایک اور صرف ایک محمد رسول اللہ ہی ہے۔یہ وہ مقام ہے جس کے بعد آپ کو اس اعلان عام کا اذن ملتا ہے: قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام: ۱۶۳) تو بنی نوع انسان سے کہہ دے کہ میرا الگ وجود مٹ گیا۔میں تو سرتا پا اپنے رب ہی کا ہو چکا ہوں۔میری عبادتیں اور میری قربانیاں، میری زندگی اور میری موت تمام جہانوں کے رب اللہ ہی کے لئے ہو چکی ہیں۔توحید کامل نے وصل تام پیدا کیا اور وصل تام نے دل کے ہر پردے کو چاک کر دیا یہاں تک کہ حقیقت محمدی اس شان کے ساتھ ظاہر ہوئی کہ رب العرش نے آپ کو مخاطب