خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 210 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 210

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 210 حقیقت نماز ۲۷۹۱ء کا سینہ ہنڈیا کی طرح اہل رہا تھا اور حضور بار بار فرماتے تھے اللَّهُمَّ سَجَدَ لَكَ رُوحِی وَ جَنَانِي اللَّهُمَّ سَجَدَ لَكَ رُوحِی وَ جَنَانِی اے میرے اللہ ! تیرے حضور میری روح بھی سجدے میں ہے اور جسم بھی سجدے میں۔اے میرے اللہ ! تیرے حضور میری روح بھی سجدے میں ہے اور جسم بھی سجدے میں ہے۔پس یہ مقام جو خشوع کا مقام ہے یہ نمازوں کا اعلیٰ معیار کا ایک مقام ہے۔دوسری صفت نمازوں کی وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ (المومنون : ۱۰) کی بیان کی گئی ہے۔میں اب تیسرے مقام کا ذکر کرتا ہوں جو مقام لقاء ہے اور نمازوں کا مقصود ہے۔فلاح کے اس رفیع الشان مقام کے بعد جسے قرآنی اصطلاح میں مقام خشوع اور مقام حفاظت کہا جاسکتا ہے ایک اور بلند تر مقام بھی آتا ہے جو مقام لقاء کہلاتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کا ذکر قرآن کریم میں ان الفاظ میں فرمایا ہے: يَايُّهَا الْإِنْسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلْقِيهِ (الانشقاق:۷) یعنی اے انسان جو لقاء باری تعالیٰ کے حصول کی خاطر کڑی محنت اور مشقت اٹھاتا رہا ہے یا اٹھا رہا ہے آخر تو لقاء کا پھل پالے گا۔اس مقام پر پہنچ کر انسان محض گردو پیش پر غور اور فکر اور تدبر کرنے کے نتیجہ میں ہی نہیں بلکہ خود ذاتی مشاہدے سے یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ذاتی مشاہدہ اور تجربہ کی بناء پر ایسی نماز کی کیفیت ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں: انسان کی روح جب ہمہ نیستی ہو جاتی ہے تو وہ خدا کی طرف ایک چشمہ کی طرح بہتی ہے اور ماسوا اللہ سے اسے انقطاع تام ہو جاتا ہے۔اس وقت خدا تعالیٰ کی محبت اس پر گرتی ہے۔اس اتصال کے وقت ان دو جوشوں سے، جو اوپر کی طرف ربوبیت کا جوش اور نیچے کی طرف عبودیت کا جوش ہوتا ہے، ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے اس کا نام صلواۃ ہے۔پس یہی وہ صلوٰۃ ہے جو سیئات کو بھسم کر جاتی ہے اور اپنی جگہ ایک نور اور