خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 209 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 209

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 209 حقیقت نماز ۲۷۹۱ء ہوتا۔فرمایا ” جب خدا کو پہچان لو گے تو پھر نماز ہی نماز میں رہو گے“ ( ملفوظات جلد ۲ صفحه : ۶۱۴) خدا تعالیٰ کے لئے عظمت اور جوش اور غیرت بھی نماز میں لذت پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ”جو لوگ خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال اور تقدیس کیلئے جوش نہیں رکھتے ان کی نمازیں جھوٹی ہیں اور ان کے سجدے بے کار ہیں۔جب تک خدا تعالیٰ کے لئے جوش نہ ہو یہ سجدے صرف جنتر منتر ٹھہریں گے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحه : ۲۶۲) غرض یہ کہ نمازیں بڑی محنت اور کوشش کے بعد ایک ایسی منزل میں داخل ہو جاتی ہیں جس کے متعلق قرآن کریم یہ خوش خبری دیتا ہے کہ: قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِيْنَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمُ خُشِعُونَ (المومنون : ۳۲) یعنی اللہ تعالیٰ کے مومن بندے یقیناً نجات یافتہ ہیں جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرنے کے عادی ہوچکے ہیں اور خاشعین کے زمرے میں داخل ہو گئے ہیں۔پھر چند آیات کے بعد فرمایا وَ الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ) (المومنون (۰) یعنی یہ فلاح پانے والے مومن اپنی نماز کی حفاظت پر ہمیشہ مستعد رہتے ہیں۔اس آیت کا حقیقی اطلاق آنحضرت ﷺ ہی پر ہوتا ہے۔پھر آپ کی پیروی اور آپ ہی کی قوت قدسیہ کے طفیل یہ مقام خشوع آپ کے دوسرے غلاموں اور عشاق کو بھی نصیب ہوا۔آنحضرت ﷺ کی نمازوں کی کیفیت کا کچھ اندازہ اس حدیث سے ہوسکتا ہے۔حضرت صلى الله عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ حضور ﷺ کی باری میرے ہاں تھی ایک تاریک رات کو حضور نصف شب کے قریب اٹھے میرے دل میں نسوانی حسد کی وجہ سے یہ خیال پیدا ہوا کہ دیکھوں حضور کہاں جاتے ہیں؟ حضور اٹھے اور سیدھے باہر ایک علیحدہ مقام میں تشریف لے گئے اور نوافل پڑھنا شروع کر دیئے۔قیام اور رکوع کے بعد حضور سجدے میں گر گئے اس وقت آپ