خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 190 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 190

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 190 حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت قرآن ۰۷۹۱ ء کے ہاتھوں نیست و نابود ہونے کی خبر موجود ہے۔یہ تو ایسا مسئلہ ہے آپ فرماتے ہیں اسرائیل کے سلسلے میں کہ پہلے تو یہ بتایا کہ میں نے پہلے سے لکھ دیا تھا کہ اسرائیل قائم ہوگا تفسیر کبیر اٹھا کر دیکھ لو اس میں لکھا ہوا ہے لیکن فرمایا کہ یہ بھی لکھا ہوا ہے اس میں کہ اسرائیل پھر مٹے گا بھی اور مسلمان جوانوں کے ہاتھوں مٹے گا۔فرمایا اس کے معنی یہ ہیں کہ: وو " پھر مسلمان فلسطین میں جائیں گے اور بادشاہ ہوں گے اور لازماً اس کے یہ معنی ہیں کہ پھر یہودی وہاں سے نکالے جائیں گے اور یہ سارا نظام جس کو یو۔این۔او کی مدد سے اور امریکہ کی مدد سے قائم کیا جارہا ہے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو توفیق دے گا کہ وہ اس کی اینٹ سے اینٹ بجادیں اور پھر اس جگہ پر لا کر مسلمانوں کو بسائیں دیکھو حدیثوں میں یہ پیشگوئی آتی ہے۔حدیثوں میں یہ ذکر ہے کہ فلسطین کے علاقہ میں اسلامی لشکر آئے گا۔“ پھر فرمایا: خدا تعالیٰ کے عِبَادِيَ الصّلِحُونَ محمد رسول اللﷺ کی امت کے لوگ لازماً اس ملک میں جائیں گے نہ امریکہ کے ایٹم بم کچھ کر سکتے ہیں نہ ای بم کچھ کر سکتے ہیں۔نہ روس کی مدد کچھ کر سکتی ہے۔یہ خدا کی تقدیر ہے یہ تو ہو کر رہتی ہے۔“ ( تفسیر کبیر جلد ۵ صفحه : ۷۶ ۵ زیر آیت ولقد كتبنا في الزبور ) قرآن کریم کے زندہ کتاب ہونے کے سلسلہ میں آپ نے اپنے وجود کو پیش فرمایا۔اس کے بعد ایک آخری اقتباس حضور کا پڑھ کر میں اجازت چاہوں گا،فرماتے ہیں: ”اب میں اس علمی تحفہ کے پیش کرنے کے علاوہ دنیا کے تمام مذاہب کے راستی پسند لوگوں سے کہتا ہوں کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔قرآن کرم بھی ہر زمانے میں پھل دیتا ہے اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والوں پر اللہ تعالیٰ اپنا تازہ الہام نازل کرتا ہے اور ان کے ہاتھ پر اپنی قدرتوں کا اظہار کرتا رہتا ہے۔پس علمی غور و فکر کے علاوہ اس مشاہدہ کے ذریعے صداقت معلوم