خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 191
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 191 حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت قرآن ۰۷۹۱ء کی جاسکتی ہے۔اگر مسیحی پوپ یا اپنے آرچ بشپوں کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ میرے مقابل پر اپنے پر نازل ہونے والا تازہ کلام پیش کریں جو خدا تعالیٰ کی قدرت اور علم غیب پر مشتمل ہوتو دنیا کو سچائی کے معلوم کرنے میں کس قدر سہولت ہو جائے گی اور پوپ اور پادری جو مسیح کی صلح کل پالیسی کو ترک کر کے عیسائی خدا کو صلیبی جنگوں پر اکساتے رہتے ہیں کیا وہ آج اس روحانی جنگ کے لئے اپنے آپ کو پیش نہیں کر سکتے“ حضرت مصلح موعودؓ نے جو خدمت قرآن کی ہے اس تفصیل کا وقت نہیں رہا۔اس سلسلے میں میں نے ایک بات آپ سے شروع میں کہی تھی وہ پھر دوبارہ عرض کرتا ہوں کہ یہ خدمت ایسی نہیں جس کو موت آ جائے۔ابدالآباد تک باقی رہنے والی خدمت ہے۔حضور کی آخری بیماری کا حال دیکھئے ، دنیا یہ کہ رہی تھی نعوذ باللہ دینی توازن کھو بیٹھے ہیں اور تغیر صغیر آپ نے اس آخری بیماری میں لکھی ہے۔اس سلسلے میں ایک غیر احمدی دوست کو میں نے یہ تفسیر بھجوائی تو وہ لکھتے ہیں کہ: اس تفسیر پاک کے مطالعہ سے قبل میں قرآن پاک کو انسانی دسترس سے ماورا کوئی شے سمجھتا تھا گویا اسکی تعلیمات پاک اور پوتر زبان سے صرف ورد ہی کی خاطر ہیں اور عملی لحاظ سے انسانی فہم و تفہیم اور تگ و دو سے یکسر باہر۔صرف ملائکہ کیلئے صرف ہیں لیکن اس تفسیر صغیر کے مطالعہ سے مجھے سب سے بڑا احساس یہ ہوا ہے کہ قرآن حکیم ہی کر ہ ارض پر خیر وشر کے لامتناہی جھمیلوں میں بسنے والے انسانوں کے لئے ایک کتاب ہے۔“ حضور فرماتے ہیں: یہ خدمت جو میں نے کی ، یہ رہتی دنیا تک باقی رہے گی۔وہ دشمن جو آج مجھ پر آواز میں کس رہے ہیں ان کو بھی بالآخر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ میں ہی خدا کی طرف سے اس زمانے کیلئے خادم قرآن کیمقام پر کھڑا کیا گیا ہوں۔“ آپ فرماتے ہیں: ”خدا نے اپنے فضل سے فرشتوں کو میری تعلیم کے لئے بھجوایا اور مجھے