خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 186
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 186 حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت قرآن ۰۷۹۱ء کرتے ہوئے عام مفسرین سے جدا بحث کا جو پہلو اختیار کیا ہے اس کی داد دینا میرے امکان میں نہیں ہے۔خدا آپ کو تا دیر سلامت رکھے۔“ 66 الفضل ۷ ار نومبر ۱۹۵۳ء) خدا آپ کو تا دیر سلامت رکھے گا اور میں یقین دلاتا ہوں اور آپ بھی یہ یقین رکھتے ہیں کہ آپ کبھی نہیں مریں گے قرآن کی جو خدمت آپ نے کی ہے جو تفاسیر ہمیشہ ہمیش کی زندگی لئے ہوئے آج ہمارے سامنے ہیں اور آتی رہنے والی دنیا کے سامنے بھی آتی چلی جائیں گی وہ آپ کو ہمیشہ زندہ و جاوید رکھیں گی۔یہ دعا قبول ہو چکی اور ہمیشہ قبول ہوتی رہے گی۔آپ کی تفاسیر میں جو میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا اِنَّا لَمُوسِعُونَ (الذاریات ۸۴) کی صفت ایسی شان سے ظاہر ہوتی ہے کہ چھوٹی چھوٹی آیات اور ان پر نظر ڈال کے آپ ان کے مختلف بطون دیکھتے ہیں۔اس لفظ کے یہ معنی ہیں، اس کے یہ معنی ہیں، اس کے یہ معنی ہیں، ایک پہلو سے اور ان معنوں کے لحاظ سے یہ مضمون چلتا ہے۔دوسرے معنی ان الفاظ کے یہ ہیں اور ان کے لحاظ سے یہ مضمون چلتا ہے۔وہ سورۃ کھلتی چلی جاتی ہے یوں معلوم ہوتا ہے جس طرح سات دروازے ہیں الگ الگ جن میں سے آپ داخل ہو کر ہر سورۃ کا ایک نیا جہان دیکھتے ہیں۔ارَعَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ (الماعون : ۲) سورہ ماعون کی آپ نے تفسیر فرمائی۔اس میں دین کے تیرہ معانی پیش کئے لغت سے اور یہ تفسیر میرا خیال ہے کہ قریباً (۷۳) تہتر بڑے صفحات پر مشتمل ہے۔اسی طرح سورۃ کوثر کی تین آیات ہیں لیکن تقریباً ایک سو تہتر (۱۷۳) صفحات کی یہ تفسیر ہے ان تین آیات کی : إِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ (الكوثر :٢-٤) مشتمل ہے۔ان تین آیات کی تفسیر بڑی تقطیع کی کتاب پر ایک سو تہتر (۱۷۳) صفحات پر مش تو یہ ایک مثال ہے کہ کس طرح آپ نے قرآن کے جہان کو کھولا اور عظیم وسعتوں کے ساتھ ہمیں روشناس کروایا۔پھر ایک اور صفت حضور کی تفسیر کی یہ ہے کہ آپ نے قرآن کے معاملہ میں بڑی غیرت کا