خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 181
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 181 حضرت مصلح موعود کی خدمت قرآن ۰۷۹۱ء ایک سے زیادہ مشن بھی ہیں اس لئے میں صرف ملکوں کے نام پڑھ رہا ہوں۔کینیڈا ،ساؤتھ امریکہ، جاپان، ملائیشیا، نبی ،انڈونیشیا، سنگا پور ، شام، غانا، کینیا، کیپ ٹاؤن، تنزانیہ، یوگنڈا، برما، سیرالیون، نائیجیریا، آئیوری کوسٹ، لائبیریا، گیمبیا، ماریش، سیلون، اردن ،سویڈن اور ہندوستان اور پاکستان اس کے علاوہ ہیں۔تو یہ سارا نظام محض خدمت قرآن کے لئے کیا گیا۔اگر یہ مجاہدین وہاں نہ پہنچتے اور دلوں کو قرآن کی خدمت کے لئے آمادہ نہ کرتے تو وہ سفید پرندے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے پکڑے تھے آنحضرت ﷺ کے قدموں میں حاضر کرنے کے لئے، یہ نظارہ دنیا نہیں دیکھ سکتی تھی اور محض کتابوں کے ذریعے اور نیک مثال کے بغیر کوئی پاکیزہ تبدیلی نہیں ہوسکتی تھی۔اس کے علاوہ حضور نے تراجم قرآن کا کام شروع کروایا۔بے شمار دنیا میں زبانیں ہیں جو ترجمہ کی محتاج تھیں اور بے شمار قومیں ہیں جن کو جب تک آپ ترجمہ کر کے قرآن پیش نہ کرتے ان کی کچھ سمجھ میں نہیں آسکتا تھا۔چنانچہ جرمنی میں ، ڈچ میں ، ڈینش میں ، سواحیلی میں ، یوگنڈی میں، مینڈی میں فرانسیسی زبان میں، ہسپانوی زبان میں ، اٹالین زبان میں، روسی زبان میں ، پرتگیزی زبان میں کوکو یو زبان میں کو کمبا زبان میں اور انڈونیشین زبان میں یہ تراجم ہو چکے ہیں۔آج ان تراجم کے زندہ گواہ کے طور پر ہمارے اندر اٹلی کے ایک نومسلم دوست یہاں تشریف فرما ہیں۔آپ کو پہلے تو حضور کا پیغام پہنچا خدام کے ذریعے اور آپ نے اسلام کو قبول فرمایا اس کے بعد پھر ایسی محبت قرآن کی دل میں پیدا ہوئی کہ اس بڑی عمر میں جب کہ آپ کا بینکنگ کا کام ہے، ایک پورا Whole Time Job ہے، اس کام میں مصروفیت بھی بے انتہا ہے باوجود اس کے عربی زبان سیکھی ، قرآن کریم پڑھا، بڑی توجہ کے ساتھ ، اس کا ترجمہ آپ نے دنیا کی جو تمام دنیا کی بین الاقوامی زبان ہے اسپرانٹو ، اس میں کیا اور وہ شائع ہو چکا ہے اور قرآن کے ترجمہ سے پہلے جو محبت قرآن کی حضور کے خدام کے ذریعے آپ کے دل میں پیدا ہوئی اور قرآن کے ترجمہ کے بعد جو پاک تبدیلی آپ کے دل میں پیدا ہوئی اس کا ایک چھوٹا سا نظارہ آپ اس بات سے کر سکتے ہیں کہ ابھی حال ہی میں آپ قادیان کی زیارت کر کے آئے ہیں اور وہ ظاہری طور پر ایک معمولی چھوٹا سا قصبہ ہے ، گلیاں ہیں اب تو وہاں احمدی چونکہ کم ہیں مرکزی حصہ میں ہیں ، غیر مسلم بڑی کثرت سے ہیں۔اس کے باوجود قادیان کے تقدس کا ایسا گہرا دل پر اثر لے کر آئے اور وہاں سے جو حضرت مسیح