خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 179
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت ہو۔179 دئے تھکتا نہیں تھا کیونکہ قرآن کریم کی محبت میں سراپا ڈوبی ہوئی تھی۔حضرت مصلح موعود کی خدمت قرآن ۰۷۹۱ ء یہ تاثر صرف حضور کے غلاموں کا نہیں ہے۔وہ لوگ جنہوں نے مخالفتیں بھی کیں ان کا بھی یہی تاثر ہے۔وہ لوگ جو دنیا میں بڑے عالم اور فاضل کہلائے اور مشرق میں انہوں نے ایک بڑا نام پیدا کیا ان کا بھی یہی تاثر ہے۔چنانچہ ایک موقع پر لاہور میں علامہ اقبال کو حضور کے ایک جلسے کی صدارت نصیب ہوئی تو اسکے صدارتی کلمات کہتے ہوئے آپ نے فرمایا: ایسی پر از معلومات تقریر بہت عرصے کے بعد لاہور میں سننے میں آئی ہے اور خاص کر جو قرآن شریف کی آیات سے مرزا صاحب نے استنباط کیا ہے وہ تو نہایت عمدہ ہے۔میں اپنی تقریر کو زیادہ دیر تک جاری نہیں رکھ سکتا۔تا مجھے اس تقریر سے جو لذت حاصل ہو رہی ہے وہ زائل نہ ہو جائے اس لئے میں اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں۔“ (الفضل ۱۵ مارچ ۱۹۲۷ء) حضور نے قرآن کریم کی خدمت کے لئے جو سلسلہ جاری فرمایاوہ ایک نہایت ہی عمدہ ذہن کا سوچا ہوا ایک منصوبہ تھا جو ہر پہلو سے خدمتِ قرآن کے لئے مکمل منصوبہ تھا اس میں کوئی بھی سقم ہم نہیں دیکھتے۔خالی تفسیر لکھ دینا اور پھر اسے شائع کر دینا یہ اپنی ذات میں کافی نہیں ہے۔حاملِ قرآن علماء کی تیاری ضروری ہے، اس نظام کی ضرورت ہے جو اس قرآن کو تمام دنیا میں کونے کونے تک پہنچائے۔ان ربانی علماء کی ضرورت ہے جو اپنی زندگیوں سے یہ ثابت کریں کہ قرآن ایک زندہ کتاب ہے محض علمی لحاظ سے آج دنیا فتح نہیں ہو سکتی اس پہلو سے علم کے پہلو سے بھی اور عمل کے پہلو سے بھی اور پھر اس سلسلہ (احمدیہ ) میں وہ قربانی کی روح پیدا کرنے کے لحاظ سے بھی جس کے نتیجے میں سلسلہ قرآن کی خدمت کے لئے بحیثیت مجموعی تیار ہو آپ نے عظیم الشان خدمت کی ہے۔جہاں تک علماء کی تیاری کا تعلق ہے آپ سب جانتے ہیں جامعہ احمدیہ میں حضور نے غیر معمولی توجہ کے ساتھ خدمت قرآن کا سلسلہ شروع کیا۔علماء تیار کئے، ایسے علماء تیار کئے جن کی دنیا کے علوم پر بھی نظر تھی۔واقفین کو بلایا اس لئے کہ وہ اپنی دنیا کے علم لے کر ابراہیمی پرندہ بننے کے لئے مرکز میں حاضر ہو جائیں اور یہاں پھر سے دین کی تربیت لے کر تمام دنیا میں اسلام کے اور قرآن کے خادم کے طور پر نکلیں۔اس لحاظ سے آپ نے عملی قربانی بھی دی اور جماعت کو بار بار فرمایا کہ دیکھو خدا کے حضور