خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 165
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 165 اسلام اور سوشلزم ۹۶۹۱ء گی تو جو کچھ کمائے گی وہ اس کا ہوگا وَ عَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ اور جو بدیاں وہ کمائے گی اس دور میں یا جو نقصانات پہنچائے گی اس کی ذمہ داریاں بھی اسی جان پر عائد ہوں گی۔اس کے برعکس اشتراکیت کا مشہور مقولہ یہ ہے کہ ہر انسان سے اس کی طاقت کے مطابق کام لیا جائے لیکن ہر انسان کو اس کی ضرورت کے مطابق دیا جائے یہ دواصول ہیں جو ایک دوسرے کے مقابل پر کھڑے ہیں۔ان کا موازنہ کرتے وقت یہ امر مدنظر رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ہر جان سے اس کی طاقت کے مطابق کام لیا جائے کیونکہ طاقت کی تعیین کرنا ایک انسان کا کام نہیں ہے اور اس کی طاقت ہی نہیں ہے کہ وہ تعین کر سکے۔فرمایا لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کسی کی طاقت سے بڑھ کر اس سے کام نہیں لیا جائے گا۔ان دو چیزوں میں بنیادی فرق ہے۔اشترا کی اصل کے مطابق اشترا کی دنیا میں اشترا کی حکومت ہر شخص کو کام کرنے پر مجبور کر سکتی ہے کیونکہ یہ فیصلہ ہے کہ ہر شخص سے کام ضرور لیا جائے گا۔اور یہ فیصلہ کہ اسکی طاقت کیا ہے یہ اشترا کی حکومت کرے گی۔اسلام یہ نہیں کہتا کہ ہر شخص سے کام ضرور لیا جائے گا فرماتا ہے جب بھی کام لیا جائے اور اگر کام لیا جائے تو اس کی طاقت سے بڑھ کر نہیں لیا جائے گا۔پھر اشتراکیت کہتی ہے کہ اس کے نتیجے میں جو کچھ وہ حاصل کرے وہ اس کا نہیں ہوگا بلکہ آگے ہم ضرورت کی بھی تعین کریں گے اور ایک انسان دوسرے انسان کی ضرورت کا تعین کر کے بتائے گا کہ تمہیں کس چیز کی ضرورت ہے۔اسلام کہتا ہے نہیں جب کمانے کی آزادی ہوگی، محنت کی آزادی ہوگی ، حاصل کرنے کی آزادی ہوگی تو جو کچھ اس نے کمایا وہ اس کا لیکن جو کچھ وہ نہیں کما سکے گا یا ظلم کرے گا اس کا وبال بھی اس پر پڑے گا۔اسلامی تعلیم کا یہ حصہ اور جو پہلی آیت میں نے پڑھی تھی اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ یہ تمام اسلامی اقتصادی تعلیم پر حاوی ہے۔عدل کے پیش نظر انصاف کا اولین تقاضہ ہی یہ تھا کہ انسان کو کسی ایسے کام پر مجبور نہ کیا جائے جسے وہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا یا وہ سمجھتا ہے کہ میں یہ کام نہیں کر سکتا اس لئے حکومت کو زبر دستی بیگار ڈالنے کی کوئی اجازت نہیں ہے۔اگلا حصہ عدل کا جو ہے اس کے پیش نظر ہر انسان برابر ہے اپنے اقتصادیات کے لحاظ سے بھی اور اپنے تمدن کے لحاظ سے بھی چنانچہ