خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 164 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 164

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 164 اسلام اور سوشلزم ۹۶۹۱ء ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے رحمت ہے اسلام کی، اس کے علاوہ ایک امر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو أُمَّةً وَسَطًا ( البقرۃ:۴۴۱) کے طور پر پیش فرمایا۔یہ ہر انتہاء سے پاک ہے اس امر کو آپ کو مدنظر رکھنا چاہئے۔دوسری حقیقت یہ ہے کہ اسلام کو اللہ تعالیٰ نے دین فطرت قرار دیا اور کوئی ایسی تعلیم اسلام پیش نہیں کرے گا جو انسانی فطرت کے ساتھ مطابقت نہ رکھتی ہو۔اس کے علاوہ اسلام نے جو تعلیم دی اس کے دو حصے ہیں جو دراصل پہلے ہی بنیادی فرق سے تعلق رکھنے والے ہیں۔چونکہ اللہ تعالیٰ کا تصور پیش کیا جاتا ہے اس لئے اسلامی تعلیم لازماً انسان اور بندے کے تعلقات اور انسان اور انسان کے تعلقات کو دو الگ الگ حصوں میں پیش کرتی ہے۔چونکہ اللہ تعالیٰ کا تصور پیش کیا جاتا ہے اور چونکہ یہ تصور بھی پیش کیا جاتا ہے کہ انسان کی زندگی دائمی اور قائم رہنے والی ہے اس لئے اسلام کی تعلیم اپنے ہر شعبے میں ان امور کو مد نظر رکھتی ہے جس کا انسان کی روح سے اور اس کے ارتقا سے تعلق ہے۔چنانچہ یہ وہ حصے ہیں اسلامی تعلیم کے جن کا موازنہ سوشلزم سے یا کمیونزم سے ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ وہاں یہ تصور ہی موجود نہیں۔اس لئے آدھے سے زیادہ اسلامی تعلیم کا موازنہ ہم سوشلزم سے نہیں کر سکتے لیکن جہاں تک اقتصادی تعلیم کا تعلق ہے بنیادی اصل جو اسلام نے پیش کیا اور اس کے مقابل پر ایک کمیونسٹ اصل بھی رکھا جا سکتا ہے وہ اس آیت میں بیان کیا گیا ہے: اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَايْتَائِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (النمل: ٩١) پھر فرمایا: لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ (البقرة : ۲۸۷) کہ اللہ تعالیٰ عدل کی تعلیم دیتا ہے احسان کی تعلیم دیتا ہے اور ايْتَائِ ذِي الْقُرْبى کی تعلیم دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ یہ اصل مقررفرماتا ہے کہ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کسی جان سے اس کی طاقت سے بڑھ کر کام نہیں لیا جائے گالَهَا مَا كَسَبَتْ پھر جب وہ کام کرے