خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 161 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 161

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 161 اسلام اور سوشلزم ۹۶۹۱ء کرتے ہوئے ایسے تاریخی الفاظ پیش کئے جن کا جاننا آج کل غیر اشترا کی دنیا میں بسنے والوں کے لئے ضروری ہے۔وہ کہتا ہے کہ اشتراکی روس سے فنون لطیفہ کی تاریخ میں مرکزی اشترا کی کمیٹی نے ایک تاریخی سنگ میل کا اضافہ کیا ہے کہ آئندہ سے فنکار اپنی قلبی تحریکات اشترا کی مجلس مرکز یہ سے حاصل کیا کرے گا۔“ یہ وہ حقیقت میں آزادی ہے جس کا آج ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے۔اس کے بعد میں بعض اصولی باتیں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کیونکہ تفصیلات میں جانے کا وقت نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ہر تحریک کی ایک سرشت ہوا کرتی ہے اور ہر تحریک کو چلانے کے لئے ایک قوت محرکہ درکار ہوا کرتی ہے۔اسلام کے نزدیک یہ محرکہ قو تیں دو ہی قسم سے تعلق رکھتی ہیں یا ناری صفت کی یا طینی صفت کی۔چنانچہ قرآن کریم ابتدا ہی میں اس بات کو شیطان اور خدا تعالیٰ کے مکالمے کی صورت میں ظاہر فرماتا ہے۔یہ ایک بنیادی اصل ہے کہ تمام لامذہبی طاقتیں ناری سرشت سے تعلق رکھا کرتی ہیں اور تمام مذہبی طاقتیں رحمت کے سرچشمے سے پھوٹتی ہیں چنانچہ اسلام اس حقیقت کو بیان کرتے ہوئے کہ قرآن کریم اور آنحضرت اور اسلام کی سرشت کیا ہے بیان فرماتا ہے الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ( الرحمن :۲-۵) کہ وہ ذات جس نے اس کائنات کو پیدا کیا وہ رحمان ہے چنانچہ اس کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْ (الاعراف: ۷۵۱) كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ (الانعام: ۳۱) کہ خدا تعالیٰ کی کائنات میں بھی جو حقیقت ظاہر ہورہی ہے اس تعلیم میں بھی جو قرآن کی تعلیم ہے اس کی رحمت کا پہلو غالب ہے۔پھر آنحضرت کے متعلق فرمایا وَ مَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ) (الانبیاء : ۸۰) کہ ہم نے تمھیں بھی مجسم رحمت بنا کر بنی نوع انسان کے لئے بھیجوایا ہے پھر مومنوں کے متعلق فرمایارُ حَمَاءُ بَيْنَهُمْ (الفتح:۰۳) وہ نہایت ہی رحیم ہیں ایک دوسرے سے محبت کرنے والے۔چنانچہ یہ رحمت کا مضمون مسلسل تمام تفاصیل پر حاوی ہے۔اس کے برعکس اشتراکیت کی تحریک غضب کے سرچشمے سے پھوٹ رہی ہے اور انتقام کے سرچشمے سے پھوٹ رہی ہے۔مارکس ( Karl Marx) جو خود یہودی نژاد تھا ایک ایسی قوم سے تعلق