خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 150
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 150 فلسفہ دعا ۸۶۹۱ء کر رہا ہوں اور مسلسل بارہ سال سے میرے کانوں نے یہ آواز سنی ہے کہ ہم اس دعا کو قبول نہیں کرتے ، ہم اس دعا کو قبول نہیں کرتے ، پھر بھی میرا یہ مقام نہیں کہ دعا ترک کروں۔وہ مالک الملک ہے اور میں ایک حقیر اور عاجز بندہ۔میرا کام یہ ہے کہ مانگتا چلا جاؤں اور اس کی شان یہ ہے کہ چاہے تو قبول فرمائے چاہے تو رد کرے۔یہ الفاظ ابھی اس کے منہ میں ہی تھے کہ غیب کے پردوں کو چیرتی ہوئی ایک پر شوکت آواز آئی اے میرے بندے! میں نے تیری یہ دعا بھی قبول کر لی ہے اور اس بارہ سال کے عرصہ میں جتنی دعا ئیں تو نے مجھ سے مانگیں تھیں وہ ساری کی ساری آج قبول کرتا ہوں۔وہ عباد الرحمن جو بسا اوقات اپنے رب کو منوا کر ہی رہتے ہیں وہ صبر کے ساتھ اپنی دعاؤں میں عاجزی اور فروتنی کو بھی کمال تک پہنچا دیتے ہیں چنانچہ اس امر پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: پس دعاؤں سے کام لینا چاہئے اور خدا تعالیٰ کے حضور استغفار کرنا چاہئے کیونکہ خدا تعالیٰ غنی بے نیاز ہے۔اس پر کسی کی حکومت نہیں ہے۔ایک شخص اگر عاجزی اور فروتنی سے اس کے حضور نہیں آتا وہ اس کی کیا پرواہ کر سکتا ہے۔۔۔۔۔خدا تعالیٰ سے اڑ کر مانگتا ہے اور اپنے ایمان کو مشروط کرنا بڑی بھاری غلطی اور ٹھوکر کا موجب ہے۔( ملفوظات جلد ۲ صفحه : ۲۹۶) قرآن کریم نے انبیاء گزشتہ کی جو دعائیں بطور نمونہ زندہ رکھی ہیں ان سب میں عاجزی اور فروتنی کا عنصر بہت نمایاں نظر آتا ہے اور انبیاء علیھم السلام کی بعض چھوٹی چھوٹی دعائیں اس پہلو سے ایک عجیب شان رکھتی ہیں۔دیکھئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کتنے سادہ مگر عمیق الاثر الفاظ میں اپنی عاجزی اور بے مائیگی کا اظہار کرتے ہیں رَبِّ انِي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرُ (القصص: ۲۵) کہ اے میرے رب ! جو چیز بھی تو میری جھولی میں بطور خیر ڈال دے میں اسی کا محتاج و فقیر ہوں۔پھر مخالف قوتوں کے مقابل پر اپنی ناطاقتی اور بے مائیگی کا تذکرہ یوں کرتے ہیں رَبِّ إِنِّي لَا أَمْلِكُ إِلَّا نَفْسِي وَأَخِي فَافُرُقْ بَيْنَنَا وَ بَيْنَ الْقَوْمِ الْفَسِقِينَ